حدیث نمبر: 7213
أخبرني محمد بن علي (1) بن دُحَيم الشَّيباني، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، حدثنا الأجلح، عن الشَّعبي، عن عبد الله بن الخليل، عن زيد بن أرقم: أنَّ عليًّا بعثه النبيُّ ﷺ إلى اليمن، فارتفع إليه ثلاثةٌ يتنازعون ولدًا، كلُّ واحد يَزعُمُ أنَّه ابنُه. قال: فخَلَا باثنين، فقال: أتَطيبانِ نَفْسًا لهذا الباقي بالولد؟ قالا: لا، وخَلَا باثنين، فقال لهما مثلَ ذلك، فقالا: لا، فقال: أُراكم شُركاءَ متشاكِسون (2) وأنا مُقرِعٌ بينكم، فأقرعَ بينهم فجعلَه لأحدِهم، وأغرَمَه ثُلُثَي الدِّيَة للباقين. قال: فذكر ذلك للنبي ﷺ، فضحك حتى بَدَتْ نَواجِذُه (3). قد أعرض الشيخان ﵄ عن الأجلح بن عبد الله الكِندي أصلًا، وليس في رواياته بالمتروك، فإنَّ الذي يُنقَم عليه به مذهبُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7037 - الأجلح ليس بالمتروك
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم ﷺ نے یمن بھیجا، وہاں ان کے پاس تین آدمی ایک بچے کے متعلق جھگڑا لے کر آئے، ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ اسی کا بیٹا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے باری باری ان میں سے دو دو کو علیحدگی میں بلا کر پوچھا کہ کیا تم اس تیسرے ساتھی کے حق میں بخوشی بچے سے دستبردار ہوتے ہو؟ ان سب نے انکار کر دیا۔ تب آپ نے فرمایا: ”مجھے تو تم ایسے شرکاء نظر آتے ہو جو ایک دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہیں «شُرَكَاءَ مُتَشَاكِسُونَ»، اب میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کروں گا“، چنانچہ آپ نے قرعہ ڈالا تو وہ بچہ ایک کے نام نکلا، آپ نے وہ بچہ اسے دے دیا اور اسے حکم دیا کہ وہ باقی دو ساتھیوں کو (بچے کی) دیت کا دو تہائی حصہ ادا کرے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب اس واقعے کا تذکرہ نبی کریم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ اس قدر ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک نظر آنے لگیں۔
شیخین نے اجلح بن عبداللہ الکندی سے اصلاً اعراض کیا ہے، حالانکہ ان کی روایات متروک نہیں ہیں، ان پر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ ان کے مخصوص نظریات (مذہب) کی بنا پر ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7213
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لاضطرابه
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد سلف بيانه برقم (2865).» [ترقيم الرساله 7213] [ترقيم الشركة 7132] [ترقيم العلميه 7037]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) جاء اسمه مقلوبًا في النسخ الخطية إلى: علي بن محمد، والتصويب من الأسانيد الأخرى عند المصنف.
اہم نکتہ: قلمی نسخوں میں یہ نام الٹ کر "علی بن محمد" لکھ دیا گیا ہے، جبکہ مصنف کے ہاں دیگر اسناد کی روشنی میں درست نام کی تصحیح کر دی گئی ہے۔
(2) كذا في نسخنا الخطية، والجادة أن تكون منصوبة نعت منصوب للمفعول الثاني "شركاء".
نوٹ / توضیح: ہمارے نسخوں میں یہ اسی طرح درج ہے، جبکہ قواعد کے مطابق اسے دوسرے مفعول "شرکاء" کی صفت ہونے کی بنا پر حالتِ نصب میں ہونا چاہیے تھا۔
(3) إسناده ضعيف لاضطرابه، وقد سلف بيانه برقم (2865).
درجۂ حدیث: اس کی سند "اضطراب" کی وجہ سے ضعیف ہے، جس کی تفصیل پہلے رقم (2865) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7213 سے ماخوذ ہے۔