کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: کھجور کے ہر درخت کی شاخوں کے پھیلاؤ کی حد تک اس کی حریم (ملکیتی جگہ) ہے
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبو كامل الجَحْدري، حدثنا فُضَيل بن سليمان، عن موسى بن عُقبة، عن إسحاق بن يحيى، عن عُبادة بن الصامت، قال: قَضَى رسولُ الله ﷺ في النَّخلة والنخلتين والثلاثِ، فيختلفون في حقوق ذلك، فقضى أنَّ لكلِّ نخلةٍ مبلغَ جَريدِها حَرِيمًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7040 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے ایک، دو یا تین درختوں کے بارے میں، جن کے حقوق پر لوگ اختلاف کر رہے تھے، یہ فیصلہ فرمایا کہ ”ہر درخت کے گرداگرد اس کی شاخوں کے پھیلاؤ کے برابر جگہ اس کی حدِ حفاظت «حَرِيماً» شمار ہوگی (یعنی وہ جگہ درخت کے مالک کی ملکیت تصور ہوگی)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7216
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، فضيل بن سليمان» [ترقيم الرساله 7216] [ترقيم الشركة 7135] [ترقيم العلميه 7040]
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا سفيان، عن إسماعيل بن أُمية، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، يبلغ به النبيَّ ﷺ قال: "حَرِيمُ قَلِيب العاديَّة خمسون ذراعًا، وحَريمُ قَلِيب البادي خمسةٌ وعشرون ذِراعًا" (1). وَصَله وأسنَده عمرُ بن قيس عن الزُّهري:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ اسے نبی کریم ﷺ تک پہنچاتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قدیم کنویں (عادیہ) کی حدِ حفاظت (ارد گرد کی محفوظ جگہ) پچاس ہاتھ ہے، اور نئے کھدنے والے کنویں (بادی) کی حد پچیس ہاتھ ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأحكام / حدیث: 7217
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7217] [ترقيم الشركة 7136]