کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم و زیادتی نہ کرے
أخبرنا أزهر بن حَمدُون المُنادي ببغداد، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثنا أبو العوام، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن ابن أبي أَوفى قال: قال رسول الله ﷺ: ""إِنَّ الله مع القاضي ما لم يَجُرْ، فإذا جارَ تَبَرّأَ اللهُ ﷿ منه" (2). أبو العوام هذا: عِمران بن داوَرَ (1) القطَّان، والإسناد صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7026 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7026 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، پس جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس سے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔“
ابو العوام اس میں عمران بن داور القطان ہیں اور یہ اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
ابو العوام اس میں عمران بن داور القطان ہیں اور یہ اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا أبو عُتبة أحمد (2) بن الفرج، حدثنا بقيّة بن الوليد، عن يزيد بن أبي مريم، عن القاسم بن مُخيمِرة، عن أبي مريم صاحب رسول الله ﷺ قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن وَلِيَ من أمر المسلمين شيئًا فاحتجب دونَ خَلَّتِهم وحاجتِهم وفقرهِم، وفاقَتِهم، احتجبَ اللهُ ﷿ يوم القيامة دون خَلَّتِه وفاقتِه وحاجتِه وفقرِه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإسناده شاميٌّ صحيح. وله شاهدٌ بإسناد البصريين صحيح عن عَمرو بن مُرَّة الجُهَني عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7027 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وإسناده شاميٌّ صحيح. وله شاهدٌ بإسناد البصريين صحيح عن عَمرو بن مُرَّة الجُهَني عن رسول الله ﷺ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7027 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابومریم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جسے مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنایا گیا، پھر وہ ان کی ضرورتوں، حاجتوں، فقر اور فاقہ کے سامنے رکاوٹ بن گیا (پردہ ڈال لیا)، تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کی ضرورت، فاقہ، حاجت اور فقر کے سامنے پردہ ڈال دے گا (یعنی اس کی پکار نہیں سنے گا)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا اور اس کی شامی اسناد صحیح ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا اور اس کی شامی اسناد صحیح ہے۔
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا محمد بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن علي بن الحَكَم، عن أبي حسن، عن عمرو بن مُرَّة قال: قلتُ لمعاوية بن أبي سفيان: إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن أغلقَ بابَه دونَ ذوي الحاجةِ والخَلَّةِ والمَسْكنة، أغلقَ الله بابَ السماء دون خَلَّتِهِ [وحاجتِه] (1) وفقرِه ومَسْكَنتِه" (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7028 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7028 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے ضرورت مندوں، حاجت مندوں اور مسکینوں کے لیے اپنا دروازہ بند کر لیا، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت، ضرورت، فقر اور مسکینی کے لیے آسمان کا دروازہ بند کر دے گا۔“