حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السري بن خُزَيمة، حدثنا أبو سلمة، حدثنا حماد بن سلمة، أخبرنا هشام بن عروة، عن أبيه قال: خلف النَّبيُّ ﷺ عثمان وأسامة بن زيد على رقيَّة في مرضها، وخَرَج إلى بدر وهي وَجِعةٌ، فجاء زيد بن حارثة على العَضْباءِ بالبشارة وقد ماتت رقيةُ فسمعنا الهَيْعةَ، فوالله ما صدَّقْنا بالبشارة حتى رأينا الأُسارى (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6851 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6851 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے لیے روانگی کے وقت سیدنا عثمان اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کے لیے پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ وہ بیمار تھیں، جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ عضباء اونٹنی پر فتح کی خوشخبری لے کر آئے تو سیدہ رقیہ وفات پا چکی تھیں، ہم نے شور سنا تو اللہ کی قسم! ہمیں فتح کی خوشخبری پر تب تک یقین نہ آیا جب تک ہم نے قیدیوں کو (بچشمِ خود) دیکھ نہ لیا۔
وحدثنا محمد بن صالح، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد سلمة، عن ثابت عن أنس قال: لما ماتت رُقيَّةُ بنتُ رسول الله ﷺ، قال النَّبيّ ﷺ: "لا يدخل القبر رجلٌ قارَفَ أهله الليلة"، فلم يدخل عثمانُ القبر (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6852 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6852 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آج کی رات جس شخص نے اپنی اہلیہ سے قربت کی ہو وہ قبر میں نہ اترے“، چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قبر میں نہ اترے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عُبيد الله (2) المُنادي، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا فليح، عن هلال بن علي بن أسامة، عن أنس بن مالك قال: شَهِدتُ ابنة (3) رسول الله ﷺ وهو جالس على القبر، ورأيتُ عينيه تدمعانِ، فقال: "هل منكم رجلٌ لم يُقارِفِ الليلة (4)؟ " فقال أبو طلحة: أنا يا رسول الله، قال: "فانزِل في قبرها" (5).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6853 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6853 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (کے جنازے) میں شریک تھا، آپ ﷺ قبر کے کنارے تشریف فرما تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے آج کی رات اپنی اہلیہ سے قربت نہ کی ہو؟“ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم ان کی قبر میں اترو۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن الحسين بن الجُنيد (ح) وحدثنا محمد بن بن أحمد بن سعيد الرازي (1) إملاء في الجامع، حدثنا أبو زُرْعة الرازي؛ قالا: حدثنا المعافى بن سليمان الحراني، حدثنا محمد بن سلمة، عن (2) أبي عبد الرحيم، عن زيد بن أبي أنيسة، عن محمد بن عبد الله بن عمرو بن عثمان، عن المطلب بن عبد الله، عن أبي هريرة قال: دخلتُ على رقيّةَ بنتِ رسول الله ﷺ امرأةِ عثمان وبيدها مُشط، فقالت: خرج رسول الله ﷺ من عندي آنفًا، رجلتُ رأسه، فقال لي: "كيف تجدين أبا عبد الله؟ " قلتُ بخير، قال: "أكرميه؛ فإنه من أشبه أصحابي بي خُلُقًا" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، واهي المتن؛ فإنَّ رقيَّة ماتت سنة ثلاث من الهجرة عند فتح بدر، وأبو هريرة إنما أسلم بعد فتح خيبر، والله أعلم، وقد كتبناه بإسنادٍ آخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6854 - صحيح منكر المتن
هذا حديث صحيح الإسناد، واهي المتن؛ فإنَّ رقيَّة ماتت سنة ثلاث من الهجرة عند فتح بدر، وأبو هريرة إنما أسلم بعد فتح خيبر، والله أعلم، وقد كتبناه بإسنادٍ آخر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6854 - صحيح منكر المتن
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عثمان کی اہلیہ اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی، انہوں نے بتایا: رسول اللہ ﷺ ابھی میرے پاس سے نکلے ہیں، میں نے ان کے سر مبارک میں کنگھی کی تھی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا تھا: ”تم ابوعبداللہ (عثمان) کو کیسا پاتی ہو؟“ میں نے عرض کی: بہت بہتر، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کا اکرام کرو، کیونکہ وہ میرے صحابہ میں اخلاق کے لحاظ سے میرے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر اس کا متن کمزور ہے؛ کیونکہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات سنہ 3 ہجری میں فتح بدر کے موقع پر ہوئی تھی جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فتح خیبر کے بعد اسلام لائے تھے، واللہ اعلم۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے مگر اس کا متن کمزور ہے؛ کیونکہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات سنہ 3 ہجری میں فتح بدر کے موقع پر ہوئی تھی جبکہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فتح خیبر کے بعد اسلام لائے تھے، واللہ اعلم۔
أخبرناه الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، حدثني أبي، عن وهب بن منبه، عن أبي هريرة قال: دخلتُ على رُقيَّةَ بنتِ رسول الله ﷺ وبيدها مشط، فقالت: خرج رسول الله ﷺ من عندي آنفا، فرجلتُ رأسه، فقال لي: "كيف تجدين عثمان؟ " قالت: فقلتُ: بخير (1)، قال: "أكرِميه؛ فإنَّه من أشبه أصحابي بي خُلقًا" (2). قال الحاكم رحمه الله تعالى: فإني (3) أتوهم أو لا أشكُّ أنَّ أبا هريرة ﵀ روى هذا الحديث عن متقدِّمٍ من الصحابة: أنه دخل على رقيَّةَ ﵂، لكني قد طلبته جهدي فلم أجده في الوقت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6855 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6855 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی، انہوں نے بتایا: رسول اللہ ﷺ ابھی میرے پاس سے نکلے ہیں، میں نے ان کے سر مبارک میں کنگھی کی تھی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا تھا: ”تم عثمان کو کیسا پاتی ہو؟“ میں نے عرض کی: بہتر، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کا اکرام کرو، کیونکہ وہ میرے صحابہ میں اخلاق کے لحاظ سے میرے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔“
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث کسی قدیم صحابی سے روایت کی ہے جو سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تھے، لیکن میں نے بہت کوشش کی مگر اس وقت مجھے وہ (سند) نہیں مل سکی۔
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث کسی قدیم صحابی سے روایت کی ہے جو سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تھے، لیکن میں نے بہت کوشش کی مگر اس وقت مجھے وہ (سند) نہیں مل سکی۔
أخبرني أبو بكر بن أبي نصر المُزكِّي والحسن بن حليم المَرُوزيَّانِ بِمَرُو قالا: أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عبدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرني يونس بن يزيد، قال: وقال ابن شِهاب: وبَلَغَنا - والله أعلم - أنَّ رسول الله ﷺ قَسم يوم بدر لعثمان سهمه، وكان قد تخلَّف على امرأته رُقيَّةَ بنتِ رسول الله ﷺ، وأصابتها حَصْبة، فجاء زيدُ بن حارثة بشيرًا بفَتْح ومعه بَدَنةٌ، وعثمانُ على قَبْرِ رقيّة يَدفنُها (4). ذكرُ أُمِّ كُلثومٍ بنتِ رسول الله ﷺ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6856 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6856 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
امام زہری سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہمیں یہ بات پہنچی ہے (واللہ اعلم) کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ان کا حصہ مقرر فرمایا تھا، وہ اپنی اہلیہ اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے کیونکہ انہیں خسرہ (چیچک) نکل آیا تھا، پھر جب سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ فتح کی خوشخبری لے کر آئے تو عثمان رضی اللہ عنہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تدفین کے لیے ان کی قبر پر موجود تھے۔