المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ وَفَاةِ رُقَيَّةَ وَدَفْنِهَا باب: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور تدفین کا ذکر
حدیث نمبر: 7025
وحدثنا محمد بن صالح، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا حماد سلمة، عن ثابت عن أنس قال: لما ماتت رُقيَّةُ بنتُ رسول الله ﷺ، قال النَّبيّ ﷺ: "لا يدخل القبر رجلٌ قارَفَ أهله الليلة"، فلم يدخل عثمانُ القبر (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6852 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آج کی رات جس شخص نے اپنی اہلیہ سے قربت کی ہو وہ قبر میں نہ اترے“، چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ قبر میں نہ اترے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. الحسين بن الفضل: هو ابن عمير البجلي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: حسین بن الفضل سے مراد "ابن عمیر بجلی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 21 / (13853) عن عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
تفصیلِ روایت: اسے امام احمد نے 21/ (13853) میں عفان بن مسلم عن حماد بن سلمہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (13398) عن يونس بن محمد، به.
تفصیلِ روایت: اور امام احمد نے (13398) میں یونس بن محمد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قلنا: وقد وقع في رواية حماد بن سلمة وهم في تسمية ابنة النَّبيّ ﷺ هذه، والصواب أنها أم كلثوم كما بيّناه عند الحديث (12275) من "مسند أحمد".
فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں: حماد بن سلمہ کی روایت میں نبی کریمﷺ کی اس صاحبزادی کا نام ذکر کرنے میں "وہم" ہوا ہے۔ درست یہ ہے کہ وہ "ام کلثوم" تھیں، جیسا کہ ہم نے "مسند احمد" کی حدیث (12275) کے تحت واضح کیا ہے۔
وقوله: "قارف أهله" أي جامَعَهم.
نوٹ / توضیح: الفاظ "قارف أهله" کا مطلب ہے: انہوں نے اپنی اہلیہ سے مجامعت کی۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: حسین بن الفضل سے مراد "ابن عمیر بجلی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 21 / (13853) عن عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
تفصیلِ روایت: اسے امام احمد نے 21/ (13853) میں عفان بن مسلم عن حماد بن سلمہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (13398) عن يونس بن محمد، به.
تفصیلِ روایت: اور امام احمد نے (13398) میں یونس بن محمد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
قلنا: وقد وقع في رواية حماد بن سلمة وهم في تسمية ابنة النَّبيّ ﷺ هذه، والصواب أنها أم كلثوم كما بيّناه عند الحديث (12275) من "مسند أحمد".
فنی نکتہ / علّت: ہم کہتے ہیں: حماد بن سلمہ کی روایت میں نبی کریمﷺ کی اس صاحبزادی کا نام ذکر کرنے میں "وہم" ہوا ہے۔ درست یہ ہے کہ وہ "ام کلثوم" تھیں، جیسا کہ ہم نے "مسند احمد" کی حدیث (12275) کے تحت واضح کیا ہے۔
وقوله: "قارف أهله" أي جامَعَهم.
نوٹ / توضیح: الفاظ "قارف أهله" کا مطلب ہے: انہوں نے اپنی اہلیہ سے مجامعت کی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7025 سے ماخوذ ہے۔