المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ وَفَاةِ رُقَيَّةَ وَدَفْنِهَا باب: سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور تدفین کا ذکر
أخبرناه الحسن بن محمد بن إسحاق الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، حدثني أبي، عن وهب بن منبه، عن أبي هريرة قال: دخلتُ على رُقيَّةَ بنتِ رسول الله ﷺ وبيدها مشط، فقالت: خرج رسول الله ﷺ من عندي آنفا، فرجلتُ رأسه، فقال لي: "كيف تجدين عثمان؟ " قالت: فقلتُ: بخير (1)، قال: "أكرِميه؛ فإنَّه من أشبه أصحابي بي خُلقًا" (2). قال الحاكم رحمه الله تعالى: فإني (3) أتوهم أو لا أشكُّ أنَّ أبا هريرة ﵀ روى هذا الحديث عن متقدِّمٍ من الصحابة: أنه دخل على رقيَّةَ ﵂، لكني قد طلبته جهدي فلم أجده في الوقت.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6855 - حذفه الذهبي من التلخيصسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی، انہوں نے بتایا: رسول اللہ ﷺ ابھی میرے پاس سے نکلے ہیں، میں نے ان کے سر مبارک میں کنگھی کی تھی، تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا تھا: ”تم عثمان کو کیسا پاتی ہو؟“ میں نے عرض کی: بہتر، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کا اکرام کرو، کیونکہ وہ میرے صحابہ میں اخلاق کے لحاظ سے میرے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔“
امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا گمان ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث کسی قدیم صحابی سے روایت کی ہے جو سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تھے، لیکن میں نے بہت کوشش کی مگر اس وقت مجھے وہ (سند) نہیں مل سکی۔
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز)، (م) اور (ب) میں لفظ "کخیر" ہے، جبکہ ہم نے نسخہ (ص) سے درست متن اثبات کیا ہے۔
(2) إسناده تالف، عبد المنعم بن إدريس - وهو اليماني - متهم بالكذب كما في "لسان الميزان" 5/ 279، وأبوه إدريس - وهو من رجال "التهذيب" - ضعيف، وتركه الدَّارَقُطْنيّ.
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ حال) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبدالمنعم بن ادریس (یمانی) "متہم بالکذب" ہے (جیسا کہ لسان المیزان 5/ 279 میں ہے)، اور اس کا باپ ادریس (جو رجال التہذیب میں سے ہے) "ضعیف" ہے اور دارقطنی نے اسے ترک کیا ہے۔
(3) المثبت من (ز)، وفي (م) و (ص): كأني، وسقطت من (ب).
فنی نکتہ / علّت: یہ متن (ز) سے لیا گیا ہے، نسخہ (م) اور (ص) میں "کأني" ہے، اور نسخہ (ب) سے یہ ساقط ہے۔