حدیث نمبر: 7026
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عُبيد الله (2) المُنادي، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا فليح، عن هلال بن علي بن أسامة، عن أنس بن مالك قال: شَهِدتُ ابنة (3) رسول الله ﷺ وهو جالس على القبر، ورأيتُ عينيه تدمعانِ، فقال: "هل منكم رجلٌ لم يُقارِفِ الليلة (4)؟ " فقال أبو طلحة: أنا يا رسول الله، قال: "فانزِل في قبرها" (5).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6853 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (کے جنازے) میں شریک تھا، آپ ﷺ قبر کے کنارے تشریف فرما تھے اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے آج کی رات اپنی اہلیہ سے قربت نہ کی ہو؟“ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم ان کی قبر میں اترو۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7026
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل فليح وهو ابن سليمان بن أبي المغيرة أبو يحيى المدني» [ترقيم الرساله 7026] [ترقيم الشركة 6947] [ترقيم العلميه 6853]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: عبد الله. وهو محمد بن عبيد الله بن يزيد البغدادي.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عبداللہ" ہو گیا تھا، حالانکہ یہ محمد بن عبیداللہ بن یزید بغدادی ہیں۔
(3) رسمت في النسخ: ابنتًا!
نوٹ / توضیح: نسخوں میں یہ لفظ "ابنتًا" (الف کے ساتھ) لکھا گیا ہے!
(4) في (ز) و (ب) هنا زيادة: لمة، وضبب عليها في (ز)، ولم ترد في (م) و (ص).
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں یہاں لفظ "لمۃ" کا اضافہ ہے، نسخہ (ز) میں اس پر نشان (ضبہ) لگایا گیا ہے (جو اس کے مشکوک یا زائد ہونے کی علامت ہے)، جبکہ نسخہ (م) اور (ص) میں یہ لفظ موجود نہیں ہے۔
(5) إسناده حسن من أجل فليح وهو ابن سليمان بن أبي المغيرة أبو يحيى المدني - وباقي رجاله ثقات.
درجۂ حدیث: اس کی سند فلیح کی وجہ سے "حسن" ہے۔ فلیح سے مراد ابن سلیمان بن ابی مغیرہ ابو یحییٰ مدنی ہیں، اور باقی رجال "ثقہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 21 / (13383) عن يونس بن محمد، بهذا الإسناد.
تفصیلِ روایت: اسے امام احمد نے 21/ (13383) میں یونس بن محمد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12275) و 21 / (13383)، والبخاري (1285) و (1342) من طرق عن فليح بن سليمان، به فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
تفصیلِ روایت: اسے احمد نے 19/ (12275) اور 21/ (13383) میں، اور بخاری نے (1285) اور (1342) میں فلیح بن سلیمان کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے (مستدرک میں لانا اور بخاری و مسلم پر) استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7026 سے ماخوذ ہے۔