حدیث نمبر: 7024
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السري بن خُزَيمة، حدثنا أبو سلمة، حدثنا حماد بن سلمة، أخبرنا هشام بن عروة، عن أبيه قال: خلف النَّبيُّ ﷺ عثمان وأسامة بن زيد على رقيَّة في مرضها، وخَرَج إلى بدر وهي وَجِعةٌ، فجاء زيد بن حارثة على العَضْباءِ بالبشارة وقد ماتت رقيةُ فسمعنا الهَيْعةَ، فوالله ما صدَّقْنا بالبشارة حتى رأينا الأُسارى (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6851 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے غزوہ بدر کے لیے روانگی کے وقت سیدنا عثمان اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمار داری کے لیے پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ وہ بیمار تھیں، جب زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ عضباء اونٹنی پر فتح کی خوشخبری لے کر آئے تو سیدہ رقیہ وفات پا چکی تھیں، ہم نے شور سنا تو اللہ کی قسم! ہمیں فتح کی خوشخبری پر تب تک یقین نہ آیا جب تک ہم نے قیدیوں کو (بچشمِ خود) دیکھ نہ لیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7024
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، رجاله ثقات لكنه مرسل. أبو سلمة: هو موسى بن إسماعيل التبوذكي.» [ترقيم الرساله 7024] [ترقيم الشركة 6945] [ترقيم العلميه 6851]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حسن لغيره، رجاله ثقات لكنه مرسل. أبو سلمة: هو موسى بن إسماعيل التبوذكي.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے تمام رجال ثقہ ہیں لیکن یہ "مرسل" ہے۔ ابو سلمہ سے مراد موسیٰ بن اسماعیل تبوذکی ہیں۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الأوسط" (54) عن موسى بن إسماعيل التبوذكي، بهذا الإسناد.
تفصیلِ روایت: اسے امام بخاری نے "تاریخ الاوسط" (54) میں موسیٰ بن اسماعیل تبوذکی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وخالفه عمرُو بنُ عاصم الكلابيُّ عند البيهقي في "السنن" 9/ 174، و"دلائل النبوة" 3/ 130 - 131، فرواه عن حماد بن سلمة، عن هشام بن عروة، عن أبيه عروة، عن أسامة بن زيد. فوصله بذكر أسامة بن زيد وعاصم ليس بذاك القوي، والتبوذكي أوثق منه بكثير.
تفصیلِ روایت: عمرو بن عاصم کلابی نے اس کی مخالفت کی ہے (دیکھیے بیہقی السنن 9/ 174، دلائل النبوۃ 3/ 130 - 131)۔ انہوں نے اسے حماد بن سلمہ، عن ہشام بن عروہ، عن ابیہ، عن اسامہ بن زید کے واسطے سے "موصول" بیان کیا (یعنی اسامہ کا ذکر کر دیا)۔
فنی نکتہ / علّت: عمرو بن عاصم بہت زیادہ قوی نہیں ہیں، جبکہ (پچھلی روایت والے) موسیٰ تبوذکی ان سے کہیں زیادہ ثقہ ہیں۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الأوسط" (57) عن عبيد بن إسماعيل الهبّاري، عن أبي أسامة حماد بن أسامة، عن هشام، عن أبيه عروة، عن عائشة. وقد أشار محققه إلى أنه ليس في نسختين من "التاريخ" ذكر عائشة، ونراه الصواب.
تفصیلِ روایت: امام بخاری نے "تاریخ الاوسط" (57) میں اسے عبید بن اسماعیل ہبّاری عن ابی اسامہ حماد بن اسامہ عن ہشام عن ابیہ عن عائشہؓ سے روایت کیا ہے۔
نوٹ / توضیح: محقق نے اشارہ دیا ہے کہ "تاریخ" کے دو نسخوں میں عائشہؓ کا ذکر نہیں ہے، اور ہماری رائے میں یہی درست ہے۔
ويشهد له مرسل عبد الله بن أبي بكر بن حزم السالف برقم (5025)، ومرسل الزهري الآتي قريبًا برقم (7029).
متابعات و شواہد: اس کی تائید عبداللہ بن ابی بکر بن حزم کی مرسل روایت کرتی ہے جو نمبر (5025) پر گزر چکی ہے، اور زہری کی مرسل روایت بھی جو قریب ہی نمبر (7029) پر آ رہی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7024 سے ماخوذ ہے۔