کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سب سے افضل مرد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سب سے افضل عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن إسحاق الثَّقفي، قال: سمعتُ محمد بن عبد الأعلى الصنعاني يقول: وجدتُ عندي في كتاب سمعتُه من المعتمر بن سليمان: عن حميد، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ سُئِلَ: من أحبُّ الناسِ إليك؟ قال: "عائشةُ"، فقيل: لا نعني أهلَكَ، قال: "فأبو بكر" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وله إسناد صحيح على شرطهما وبه يُعرَف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6739 - غريب جدا
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وله إسناد صحيح على شرطهما وبه يُعرَف:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6739 - غريب جدا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا: لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ“، عرض کیا گیا: ہماری مراد آپ کے اہل خانہ نہیں ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ابوبکر“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک اور صحیح سند بھی ان دونوں کی شرط پر موجود ہے جس سے یہ حدیث پہچانی جاتی ہے:
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک اور صحیح سند بھی ان دونوں کی شرط پر موجود ہے جس سے یہ حدیث پہچانی جاتی ہے:
حدَّثَنيه علي بن عيسى الحِيري، حَدَّثَنَا مُسدَّد بن قَطَن، حَدَّثَنَا عثمان بن أبي شَيْبة، حَدَّثَنَا جَرير، عن مغيرة، عن الشَّعبي، عن عمرو بن العاص قال: بعثني النَّبِيُّ ﷺ على جيش فيهم أبو بكر وعمرُ، فلما رجعتُ قلتُ: يا رسولَ الله، من أحبُّ الناس إليك؟ قال: "وما تريدُ إلى ذاكَ؟ " قلتُ: يا رسولَ الله، أريدُ أن أعلمَ ذاك، قال: "عائشةُ"، قلتُ: إنما أَعني من الرجال، قال: "أبوها" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6740 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6740 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے مجھے ایک لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجا جس میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے، جب میں واپس آیا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم یہ کیوں پوچھنا چاہتے ہو؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہ جاننا چاہتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ“، میں نے عرض کی: میری مراد مردوں میں سے ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے والد (ابوبکر)“۔
حدثناه أبو محمد المُزَني ومحمد بن جعفر الخَصِيب الصُّوفي، قالا: حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حَدَّثَنَا عبد الله بن عمر بن أبان، حَدَّثَنَا وكيع وأبو أسامة، قالا: حَدَّثَنَا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم: أنَّ عمرو بن العاصِ قال للنبيِّ ﷺ حينَ رجعَ من غزوة ذاتِ السَّلاسل: يا رسول الله، من أحبُّ الناسِ إليك؟ قال: "عائشةُ" قال: إنما أقولُ من الرجال، قال: "أبوها" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6741 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6741 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ غزوہ ذات السلاسل سے واپس آئے تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی: یا رسول اللہ! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ“، انہوں نے عرض کی: میں مردوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے والد (ابوبکر)“۔
أخبرنا عبد الله بن إسحاق بن إبراهيم العَدْل ببغداد، حَدَّثَنَا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حَدَّثَنَا علي بن عاصم، أخبرنا بَيَان بن بِشر، قال لي عامرٌ الشَّعبي: أتاني رجلٌ فقال لي: كلُّ أُمَّهات المؤمنين أَحبُّ إليَّ من عائشةَ، قلتُ: أمّا أنت، فقد خالفتَ رسولَ الله ﷺ؛ كانت عائشةُ أحبَّهنَّ إليه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6742 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6742 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عامر شعبی سے مروی ہے، انہوں نے کہا: میرے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: ”مجھے تمام امہات المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ محبوب ہیں۔“ میں نے کہا: ”جہاں تک تمہارا تعلق ہے، تو تم نے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی ہے، کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان سب میں آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھیں۔“
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي شَيْبة ومحمد بن بكَّارٍ، قالا: حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب الماجِشُون، حدثني أبي، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن عائشة قالت: قلتُ: يا رسولَ الله، مَن مِن أزواجِك في الجنة؟ قال: "أَمَا إِنَّكِ منهنَّ" قالت: فخُيِّل لي أنَّ ذاك أنه لم يتزوَّجْ بِكرًا غيري (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6743 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6743 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ کی ازواج میں سے کون جنت میں ہو گی؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خبردار! یقیناً تم انہی میں سے ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”تو میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ ﷺ نے میرے سوا کسی کنواری خاتون سے نکاح نہیں فرمایا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى ومحمد بن محمد بن يعقوب الحافظ، قالا: حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الثَّقفي، حَدَّثَنَا قُتَيبة بن سعيد، حَدَّثَنَا جَرير، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن مسروق قال: قالت عائشةُ: إنِّي رأيتُني على تلٍّ، وحولي بَقَرٌ تُنحَر، فقلتُ لها: لَئِن صدقَتْ رؤياك لتكونَنَّ حولَكِ ملحمةٌ، قالت: أعوذُ بالله من شَرِّك، وبئسَ ما قلتَ! فقلتُ لها: فلعله إن كان أمرٌ أسيَستَحُونَكِ (1)؟! فقالت: والله لأن أخِرَّ من السماء أحبُّ إليَّ من أن أفعلَ ذلك، فلما كان بعدُ ذُكِرَ عندها أنَّ عليًّا قَتَلَ ذا الثُّديَّة، فقالت لي: إذا أنت قدمتَ الكوفةَ فاكتُبْ لي ناسًا ممَّن شَهِدَ ذلك، ممَّن تعرِفُ من أهلِ البلد، فلما قدمتُ وجدتُ الناسَ أشياعًا، فكتبتُ لها من كلِّ شيعةٍ (2) عشرةً ممَّن شَهِدَ ذاك قال: فأتيتُها بشهادتِهم، فقالت: لَعَنَ اللهُ عمرَو بن العاص؛ فإنَّه زَعَمَ لي أنه قتلَه بمصر (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6744 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6744 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
مسروق سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں نے خواب میں خود کو ایک ٹیلے پر دیکھا اور میرے گرد گائیں ذبح کی جا رہی تھیں۔“ میں نے ان سے کہا: ”اگر آپ کا خواب سچا ہے تو آپ کے گرد ایک خونریز جنگ ہو گی۔“ انہوں نے کہا: ”میں تمہارے شر سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں، تم نے کتنی بری بات کہی ہے!“ میں نے ان سے عرض کی: ”شاید اگر ایسا معاملہ ہوا تو وہ لوگ آپ کا لحاظ اور احترام کریں گے؟“ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! آسمان سے گر جانا مجھے اس کام کے کرنے سے زیادہ محبوب ہے۔“ پھر اس کے بعد جب ان کے سامنے ذکر کیا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ذو الثدیہ (خارجی) کو قتل کر دیا ہے، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”جب تم کوفہ جاؤ تو ان لوگوں کے نام لکھ کر لانا جنہوں نے اس واقعے کا مشاہدہ کیا ہے اور جنہیں تم شہر کے لوگوں میں سے جانتے ہو۔“ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے لوگوں کو مختلف گروہوں میں پایا، چنانچہ میں نے ہر گروہ سے دس ایسے افراد کے نام لکھے جنہوں نے اس کا مشاہدہ کیا تھا۔ مسروق کہتے ہیں: میں ان کی گواہیاں لے کر ان کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عمرو بن عاص پر لعنت کرے، کیونکہ انہوں نے مجھ سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اسے مصر میں قتل کیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔