حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا محمد بن يونس، حَدَّثَنَا أبو عاصم، عن هشام بن حسان، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه: أن معاويةَ بن أبي سفيان بعث إلى عائشةَ بمئةِ ألفٍ، فقَسَمتها حتَّى لم تترك منها شيئًا، فقالت بَرِيرةُ: أنتِ صائمةٌ، فهلَّا ابتعتِ لنا بدرهمٍ لحمًا؟! فقالت عائشةُ: لو أني ذكرتُ لفعلتُ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6745 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6745 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں ایک لاکھ (درہم) بھیجے، تو انہوں نے وہ سب تقسیم کر دیے یہاں تک کہ اس میں سے کچھ باقی نہ رہا۔ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”آپ روزے سے تھیں، تو کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ ہمارے لیے ایک درہم کا گوشت ہی خرید لیتیں؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اگر میں یاد رکھتی تو ضرور ایسا کر لیتی۔“
حَدَّثَنَا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن سِنان القزَّاز، حَدَّثَنَا أبو عامر العَقَدي، حَدَّثَنَا زَمْعة بن صالح، عن ابن أبي مُليكة: أنَّ أم سَلَمة سمعت الصَّرخةَ على عائشة، فقالت لجاريةٍ: اذهبي فانظري، فجاءت فقالت: وَجَبَتْ، فقالت أمُّ سلمة: والذي نفسي بيده، لقد كانت أحبَّ الناسِ إلى رسول الله ﷺ إلَّا أباها (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6746 - فيه زمعة بن صالح وما روى له إلا مسلم مقرونا بآخر معه
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6746 - فيه زمعة بن صالح وما روى له إلا مسلم مقرونا بآخر معه
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات پر چیخ و پکار سنی، تو انہوں نے اپنی لونڈی سے فرمایا: ”جاؤ اور دیکھو (کیا ہوا ہے)۔“ وہ واپس آئی اور بتایا: ”ان کی وفات واقع ہو گئی۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ رسول اللہ ﷺ کو ان کے والد کے سوا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا محمد بن بشر بن مَطَر، حَدَّثَنَا أبو مسلم المُستملي، حَدَّثَنَا سفيان بن عُيَينة، قال: قال معاويةُ: يا زيادُ؛ أيُّ الناسِ أعلم؟ قال: أنت يا أميرَ المؤمنين، قال: أعزِمُ عليك، قال: أمَا إذ عزمتَ عليَّ، فعائشة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6747 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6747 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سفیان بن عیینہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا: ”اے زیاد! لوگوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے؟“ اس نے کہا: ”اے امیر المومنین! آپ ہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں پختہ حکم دیتا ہوں (کہ سچ بتاؤ)۔“ اس نے کہا: ”جب آپ نے مجھے پختہ حکم دیا ہے تو پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سب سے زیادہ عالم ہیں۔“