کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: صہیب سے ایسی محبت کرو جیسے ماں اپنے بچے سے محبت کرتی ہے
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي بنَيسابور، حدثنا أبو الزِّنباع، حدثنا يوسف بن عَديّ، حدثنا يوسف بن محمد بن يزيد بن صَيفي بن صُهيب، عن أبيه، عن جده عن صهيب قال: قال رسول الله ﷺ: "أحِبُّوا صهيبًا حُبَّ الوالدةِ لولدِها" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5710 - إسناده واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5710 - إسناده واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صہیب سے ایسی محبت کرو جیسی ماں اپنے بچے سے کرتی ہے“۔
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حَرْب، عن جرير بن حازم، [عن يعلى بن حَكيم] (2) عن سليمان بن أبي عبد الله، قال: كان صهيبٌ يقول لنا: هلُمُّوا نُحدِّثْكم عن مَغازِينا، فأما أن نقول: قال رسول الله ﷺ، فلا (3). قال الحاكم: بيانُ هذا الحديثِ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5711 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5711 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سلیمان بن ابی عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہمیں فرمایا کرتے تھے: آؤ ہم تمہیں اپنے غزوات کے بارے میں بتائیں، لیکن یہ کہ ہم یہ کہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا“ تو یہ ہم سے نہیں ہو سکے گا (یعنی احتیاطاً ایسا کہنے سے گریز کرتے تھے)۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی وضاحت درج ذیل روایت سے ہوتی ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی وضاحت درج ذیل روایت سے ہوتی ہے۔
ما حدَّثَناهُ أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الخضر بن أبان الهاشمي، حدثنا سَيّار بن حاتم، حدثنا جعفر بن سُليمان، حدثنا عمرو بن دينار قُهْرَمانُ آل الزُّبَير، عن صيفي بن صُهيب قال: قلت لأبي صهيبٍ: ما لكَ لا تُحدّثُ عن رسول الله ﷺ كما يُحدِّث أصحابُك؟ قال: أيْ بنيَّ، قد سمعتُ كما سَمِعُوا، ولكن يَمنعُني من الحديث أني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "مَن كَذَبَ عَلَيَّ متعمّدًا، كُلِّف يوم القيامة أن يَعقِدَ طرفَي شَعِيرةٍ، ولن يَعقِدَها" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5712 - عمرو ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5712 - عمرو ضعيف
حافظ طلحہ بابر
صیفی بن صہیب سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا وجہ ہے کہ آپ دیگر صحابہ کی طرح رسول اللہ ﷺ سے احادیث بیان نہیں کرتے؟ انہوں نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! میں نے بھی ویسے ہی سنا جیسے انہوں نے سنا، لیکن مجھے حدیث بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جو کے دو سروں کے درمیان گرہ لگائے اور وہ ہرگز ایسا نہیں کر سکے گا (یعنی سخت عذاب ہوگا)“۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن جعفر الأَدَميّ القارئ ببغداد، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، عن عُبيد الله بن عمر، عن ابن شِهاب، عن المِسوَر بن مَخْرَمة، قال: لمّا طُعِنَ عمرُ، أَمَرَ صُهيبًا مولى بني جُدْعان أن يُصلّيَ بالناس (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5713 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5713 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا (تو اپنی شہادت سے قبل) انہوں نے بنو جدعان کے حلیف سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔
حدثنا أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن عَبدُوس بن كامل، حدثنا أبو حسّان الزِّيادي (1)، حدثنا هِشامٌ الكَلْبي، قال: صُهيب بن سِنان حليفُ عبد الله بن جُدعان التَّيمي.
حافظ طلحہ بابر
ہشام کلبی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن جدعان تیمی کے حلیف تھے۔