المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
السُّبَّاقُ أَرْبَعَةٌ باب: چار لوگ سبقت لے جانے والے ہیں
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا عُمارة بن زاذانَ، عن ثابت، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ: "السُّبّاقُ أربعةٌ: أنا سابِقُ العربِ، وصهيبٌ سابِقُ الرومِ، وسلمانُ سابِقُ فارسَ، وبلالٌ سابِقُ الحَبَش" (2). ذكرُ مناقب أُوَيس بن عامر القَرَني ﵁ - أُوَيسٌ راهِبُ هذه الأمّةِ، ولم يَصحَبْ رسولَ الله ﷺ، إنما ذَكَرَه رسولُ الله ﷺ ودلَّ على فَضْله، فذكرتُه في جملةِ من استُشهِد بصِفّين بين يدَي أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5715 - عمارة بن زاذان واهسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سبقت لے جانے والے چار ہیں: میں عربوں میں سب سے پہلے سبقت لے جانے والا ہوں، صہیب رومیوں میں، سلمان فارسیوں میں اور بلال حبشیوں میں سب سے پہلے سبقت لے جانے والے ہیں“۔
سیدنا اویس بن عامر قرنی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر - سیدنا اویس اس امت کے راہب (عبادت گزار) ہیں، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی صحبت نہیں پائی (یعنی تابعی ہیں)، لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان کا ذکر فرمایا اور ان کی فضیلت پر دلالت کی، اسی لیے میں نے ان کا تذکرہ ان لوگوں کی فہرست میں کیا ہے جو امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے جیسا کہ پیچھے نمبر (5326) پر محمد بن غالب تمتام عن ابی حذیفہ کے طریق سے بیان ہو چکا ہے۔