حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا عمرو بن الحُصين العُقَيلي، حدثنا فُضَيل بن سليمان النُّمَيري، حدثنا موسى بن عُقبة، عن عطاء بن أبي مروان، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن مُغِيث، عن كعب الأحبار، حدثني صهيب بن سِنان، قال: كان رسول الله ﷺ يدعو: "اللهُمَّ إنك لستَ بإلهٍ استَحدَثْناهُ، ولا بربٍّ ابتدَعْناهُ، ولا كان لنا قَبلَك من إلهٍ نلجأُ إليه ونَذَرُكَ، ولا أعانك على خَلْقِنا أحدٌ فنُشْرِكَه فيك، تباركتَ وتعالَيتَ". قال كعبُ الأحبار: كان نبيُّ الله [داود] (1) يَدعُو به (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِإِلَهٍ اسْتَحْدَثْنَاهُ، وَلَا بِرَبٍّ ابْتَدَعْنَاهُ، وَلَا كَانَ لَنَا قَبْلَكَ مِنْ إِلَهٍ نَلْجَأُ إِلَيْهِ وَنَذَرَكَ، وَلَا أَعَانَكَ عَلَى خَلْقِنَا أَحدٌ فَنُشْرِكَهُ فِيكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» ”اے اللہ! تو ایسا معبود نہیں جسے ہم نے نیا گھڑا ہو، اور نہ ہی ایسا رب ہے جسے ہم نے ایجاد کیا ہو، نہ ہی تجھ سے پہلے ہمارا کوئی ایسا خدا تھا جس کی طرف ہم پناہ لیتے اور تجھے چھوڑ دیتے، اور نہ ہی ہماری پیدائش پر کسی نے تیری مدد کی کہ ہم اسے تیرا شریک ٹھہرائیں، تو بابرکت اور نہایت بلند و بالا ہے“، کعب الاحبار کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی سیدنا داود علیہ السلام بھی یہی دعا مانگا کرتے تھے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا علي بن عبد الحميد بن زياد بن صَيفي بن صهيب، حدثني أبي، عن أبيه، عن جده، عن صهيب، عن النبي ﷺ قال: "لا تُبغِضوا (3) صُهيبًا" (4). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”صہیب سے بغض نہ رکھو“۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔