کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کفار کی طرف سے آلِ یاسر کو دی جانے والی اذیتوں کا بیان
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: كان عمّار بن ياسر وأبوه وأمُّه أهلَ بيتِ إسلامٍ، وكان بنو مَخزُوم يُعذِّبُونهم، فقال رسول الله ﷺ: "صبرًا يا آلَ ياسر، فإنَّ مَوعِدَكم الجنةُ". قال: وكان اسمُ أمِّ عمارِ بن ياسر سُمَيَّةَ بنتَ سَلْم بن لَخْمٍ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5646 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5646 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر، ان کے والد اور ان کی والدہ ایک مکمل اسلامی گھرانہ تھے، بنو مخزوم انہیں (اسلام لانے کی پاداش میں) سخت تکلیفیں دیتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے آلِ یاسر! صبر کرو، کیونکہ تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے“، راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عمار بن یاسر کی والدہ کا نام سمیہ بنت سلم بن لخم تھا۔
أخبرني أحمد بن علي المُقرئ، حدثنا أبو عيسى محمد بن عيسى التِّرمِذي، حدثنا سُرَيج بن يونس، حدثنا أبو معاوية، عن محمد بن إسحاق، عن أبي جَعفر محمد بن عليّ، قال: قال عليٌّ لعَمّار بن ياسر: يا أبا اليَقْظانِ (2).
حافظ طلحہ بابر
امام محمد باقر (محمد بن علی) سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”اے ابو الیقظان!“
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن زياد بن جِيْلٍ، عن أبي كَعْب الحارثي: أنه دَخَلَ على عثمانَ، فجاء رجلٌ طُوَالٌ أصلعُ في مُقدَّم رأسِه شَعَراتٌ، فقلتُ: من هذا؟ فقالوا: عمارُ بنُ ياسر (3).
حافظ طلحہ بابر
ابوکعب حارثی سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اتنے میں ایک دراز قد شخص آئے جو سر کے اگلے حصے سے گنجے تھے اور وہاں چند بال باقی تھے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ عمار بن یاسر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔
حدثني علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عمرو بن مَرْزُوق، أخبرنا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن سَلِمةَ، قال: رأيتُ عمارَ بنَ ياسرٍ يومَ صِفِّينَ آدمَ طُوالًا، بيده الحَرْبةُ (1).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ میں نے جنگ صفین کے دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ گندمی رنگت کے دراز قد شخص تھے اور ان کے ہاتھ میں چھوٹا نیزہ (حربہ) تھا۔
حدثنا أبو محمد المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدةَ، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا الحارث بن مُرّة، عن كُلَيب بن مَنْفَعة، عن أبيه، قال: رأيتُ عمار بن ياسر بالكُنَاسةِ أسودَ جَعْدًا، وهو يقرأُ هذه الآيةَ: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ﴾ [الروم: 20] (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5650 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5650 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
کلیب بن منفعت اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے مقام ”کناسہ“ پر دیکھا، وہ سیاہ رنگت اور گھنگھریالے بالوں والے تھے اور اس وقت اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ﴾ ”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر اب تم انسان ہو کر (زمین میں) پھیل رہے ہو“ [سورة الروم: 20]
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسِطيّ، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعبة، عن عمرو بن مُرّة، قال: سمعتُ عبدَ الله بن سَلِمَة يقول: رأيتُ عمارَ بنَ ياسر يومَ صِفِّينَ شيخًا طُوَالًا آخذَ الحَرْبةِ بيدِه ويدُه تُرعَدُ، فقال: والذي نفسِي بيدِه، لقد قاتلْتُ بهذِه مع رسول الله ﷺ ثلاثَ مراتٍ، وهذه الرابعةُ، ثم قال: والذي نفسِي بيدِه، لو ضَرَبُونا حتى يَبلغُوا بنا سَعَفاتِ هَجَرَ لعَرفتُ أنا على الحقّ، وهم على الباطل (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ میں نے جنگ صفین کے دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ ایک بوڑھے اور دراز قد شخص تھے، انہوں نے ہاتھ میں نیزہ تھام رکھا تھا اور (بڑھاپے کی وجہ سے) ان کا ہاتھ لرز رہا تھا، انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں نے اس نیزے کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں تین مرتبہ قتال کیا ہے اور یہ چوتھی مرتبہ ہے“، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر یہ دشمن ہمیں مارتے مارتے ہجر کی کھجور کی شاخوں (یعنی انتہائی دور دراز مقام) تک بھی دھکیل دیں تب بھی مجھے یقین رہے گا کہ میں حق پر ہوں اور یہ لوگ باطل پر ہیں۔“
أخبرني أبو جعفر محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة، حدثني أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، عن أبي الأسود، عن عُرْوة، في تسميةِ مَن شهِد بدرًا مِن حُلفاء بني مَخزُوم: عمارُ بن ياسر (1).
حافظ طلحہ بابر
عروہ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کے ان حلیفوں کی فہرست میں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ (بھی) شامل تھے۔