المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
إِيذَاءُ الْكُفَّارِ آلَ يَاسِرَ باب: کفار کی طرف سے آلِ یاسر کو دی جانے والی اذیتوں کا بیان
حدیث نمبر: 5749
حدثني علي بن حَمْشاذَ، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عمرو بن مَرْزُوق، أخبرنا شُعبة، عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن سَلِمةَ، قال: رأيتُ عمارَ بنَ ياسرٍ يومَ صِفِّينَ آدمَ طُوالًا، بيده الحَرْبةُ (1).
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ میں نے جنگ صفین کے دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ گندمی رنگت کے دراز قد شخص تھے اور ان کے ہاتھ میں چھوٹا نیزہ (حربہ) تھا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر حسنٌ إن شاء الله، عبد الله بن سَلِمة - وهو المرادي الكوفي ضعيفٌ يعتبر به، وشهود عمار بن ياسر يوم صفين مشهور.
درجۂ حدیث: یہ خبر ان شاء اللہ "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی عبداللہ بن سلمہ (جو مرادی کوفی ہیں) اگرچہ ضعیف ہیں مگر متابعت میں قبول کیے جاتے ہیں (یعتبر بہ)۔ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا جنگِ صفین میں شریک ہونا تو مشہور ہے۔
وأخرجه أحمد 31 / (18884)، وابن حبان (7080) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، به.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد (31/ 18884) اور ابن حبان (7080) نے محمد بن جعفر کے طریق سے کی ہے، جو شعبہ سے روایت کرتے ہیں، اسی سند کے ساتھ۔
وسيأتي برقم (5751) و (5782).
نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (5751) اور (5782) پر بھی آئے گی۔
درجۂ حدیث: یہ خبر ان شاء اللہ "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی عبداللہ بن سلمہ (جو مرادی کوفی ہیں) اگرچہ ضعیف ہیں مگر متابعت میں قبول کیے جاتے ہیں (یعتبر بہ)۔ اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا جنگِ صفین میں شریک ہونا تو مشہور ہے۔
وأخرجه أحمد 31 / (18884)، وابن حبان (7080) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، به.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد (31/ 18884) اور ابن حبان (7080) نے محمد بن جعفر کے طریق سے کی ہے، جو شعبہ سے روایت کرتے ہیں، اسی سند کے ساتھ۔
وسيأتي برقم (5751) و (5782).
نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے نمبر (5751) اور (5782) پر بھی آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5749 سے ماخوذ ہے۔