حدیث نمبر: 5751
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن مَسْلَمة الواسِطيّ، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا شُعبة، عن عمرو بن مُرّة، قال: سمعتُ عبدَ الله بن سَلِمَة يقول: رأيتُ عمارَ بنَ ياسر يومَ صِفِّينَ شيخًا طُوَالًا آخذَ الحَرْبةِ بيدِه ويدُه تُرعَدُ، فقال: والذي نفسِي بيدِه، لقد قاتلْتُ بهذِه مع رسول الله ﷺ ثلاثَ مراتٍ، وهذه الرابعةُ، ثم قال: والذي نفسِي بيدِه، لو ضَرَبُونا حتى يَبلغُوا بنا سَعَفاتِ هَجَرَ لعَرفتُ أنا على الحقّ، وهم على الباطل (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

عبداللہ بن سلمہ سے روایت ہے کہ میں نے جنگ صفین کے دن سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ ایک بوڑھے اور دراز قد شخص تھے، انہوں نے ہاتھ میں نیزہ تھام رکھا تھا اور (بڑھاپے کی وجہ سے) ان کا ہاتھ لرز رہا تھا، انہوں نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں نے اس نیزے کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی معیت میں تین مرتبہ قتال کیا ہے اور یہ چوتھی مرتبہ ہے“، پھر فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر یہ دشمن ہمیں مارتے مارتے ہجر کی کھجور کی شاخوں (یعنی انتہائی دور دراز مقام) تک بھی دھکیل دیں تب بھی مجھے یقین رہے گا کہ میں حق پر ہوں اور یہ لوگ باطل پر ہیں۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5751
درجۂ حدیث محدثین: خبر حسنٌ إن شاء الله
تخریج حدیث «خبر حسنٌ إن شاء الله، عبد الله بن سلمة - وهو المرادي الكوفي - ضعيف يُعتبر به. وقولُ عمار بن ياسر يوم صفين في آخر الخبر هنا: والذي نفسي بيده … قد رُوي من وجه آخر عند ابن أبي شيبة في "مصنفه" 15/ 289، وإسناده محتمل للتحسين.» [ترقيم الرساله 5751] [ترقيم الشركة 5697] [ترقيم العلميه 5651]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) خبر حسنٌ إن شاء الله، عبد الله بن سلمة - وهو المرادي الكوفي - ضعيف يُعتبر به. وقولُ عمار بن ياسر يوم صفين في آخر الخبر هنا: والذي نفسي بيده … قد رُوي من وجه آخر عند ابن أبي شيبة في "مصنفه" 15/ 289، وإسناده محتمل للتحسين.
درجۂ حدیث: یہ خبر ان شاء اللہ "حسن" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبداللہ بن سلمہ (مرادی کوفی) ضعیف ہیں مگر متابعت میں قابلِ قبول ہیں۔ خبر کے آخر میں حضرت عمار بن یاسر کا جنگ صفین کے موقع پر یہ قول: "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے..." ایک اور سند سے ابن ابی شیبہ کی "المصنف" (15/ 289) میں بھی مروی ہے، اور اس کی سند حسن ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔
ومن وجه ثالث عند ابن سعد في "طبقاته" 3/ 238، ورجاله ثقات لكنه مرسل.
حوالہ / مصدر: اس کی ایک تیسری سند ابن سعد کے ہاں "الطبقات" (3/ 238) میں بھی ہے، جس کے راوی تو ثقہ ہیں لیکن وہ "مرسل" ہے۔
وانظر ما تقدم برقم (5749).
نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے پیچھے گزرنے والا نمبر (5749) دیکھیں۔
وسَعَفَات هَجَر: السَّعَفات: جمع سَعَفَة، بالتحريك: وهي أغصان النخيل، قال ابن الأثير: إنما خصَّ هجر للمباعدة في المسافة، ولأنها موصوفة بكثرة النخيل. ولمعرفة هجر انظر ما تقدَّم بيانه برقم (4425).
نوٹ / توضیح: "سَعَفات ہَجَر" کا مفہوم: "سَعَفات"، "سَعَفَہ" کی جمع ہے، اس سے مراد کھجور کی شاخیں ہیں۔ ابن اثیر کہتے ہیں کہ "ہجر" (مقام) کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ بہت دور ہے اور وہاں کھجور کے درختوں کی کثرت مشہور ہے۔ "ہجر" کی مزید تحقیق کے لیے نمبر (4425) کی وضاحت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5751 سے ماخوذ ہے۔