حدیث نمبر: 5748
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن زياد بن جِيْلٍ، عن أبي كَعْب الحارثي: أنه دَخَلَ على عثمانَ، فجاء رجلٌ طُوَالٌ أصلعُ في مُقدَّم رأسِه شَعَراتٌ، فقلتُ: من هذا؟ فقالوا: عمارُ بنُ ياسر (3).
حافظ طلحہ بابر

ابوکعب حارثی سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اتنے میں ایک دراز قد شخص آئے جو سر کے اگلے حصے سے گنجے تھے اور وہاں چند بال باقی تھے، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ عمار بن یاسر (رضی اللہ عنہ) ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5748
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لجهالة زياد بن جيل وأبي كعب الحارثي.» [ترقيم الرساله 5748] [ترقيم الشركة 5694]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف لجهالة زياد بن جيل وأبي كعب الحارثي.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ضعف کی وجہ زیاد بن جیل اور ابو کعب الحارثی کی جہالت (عدم شناخت) ہے۔
وهو في "جامع معمر بن راشد" (20732)، وأخرجه من طريقه ابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (273) ضمن حديث مُطوَّل.
حوالہ / مصدر: یہ روایت "جامع معمر بن راشد" (20732) میں موجود ہے، اور وہیں سے ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثاني" (273) میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں اس کی تخریج کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5748 سے ماخوذ ہے۔