حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد بن سَلَمة، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن عبد الله بن يزيد الصُّهْباني، عن كُمَيل بن زياد، عن علي، قال: كنتُ مع النبيِّ ﷺ، ومعه أبو بكر ومَن شاء الله من أصحابه، فمررنا بعبد الله بن مسعود وهو يصلي، فقال النبي ﷺ: "مَن هذا"؟ فقيل: عبد الله بن مسعود فقال: "إنَّ عبد الله يقرأُ القرآنَ غَضًا كما أُنزِل". فأثنى عبدُ الله على ربِّه، وحَمِده، فأحسنَ في حَمْدِه على ربِّه، ثم سأله فأَجمَل المسألة، وسألَه كأحسنِ مَسألةٍ سألَها عبدٌ ربَّه، ثم قال: اللهم إني أسألُك إيمانًا لا يَرتدُّ، ونعيمًا لا يَنفَدُ، ومرافقة محمد ﷺ في أعلى عِلَيِّين في جنانك جنانِ الخُلْد. قال: وكان ﷺ يقول: "سَلْ تُغطّ، سَلْ تُعْطَ" مرتين، فانطلقتُ لأُبشِّره، فوجدتُ أبا بكر قد سبَقَني، وكان سباقًا بالخير (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5386 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5386 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھا اور آپ کے ساتھ ابوبکر اور دیگر صحابہ بھی موجود تھے، ہمارا گزر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ عرض کیا گیا: عبد اللہ بن مسعود، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک عبد اللہ قرآن کو ویسے ہی تر و تازہ پڑھتا ہے جیسے وہ نازل ہوا ہے“، پھر عبد اللہ نے اپنے رب کی ثنا اور حمد بیان کی اور بہت خوبصورتی سے اپنے رب کی حمد کی، پھر اللہ سے دعا مانگی اور بڑی جامع اور بہترین دعا کی جو کوئی بندہ اپنے رب سے مانگ سکتا ہے، انہوں نے عرض کی: «اللَّهُمَّ إِنِّي أسْأَلُكَ إيمَانًا لَا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ فِي أعْلَى عِلِّيِّينَ فِي جِنَانِكَ جِنَانِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہو، ایسی نعمت کا جو کبھی ختم نہ ہو، اور تیری دائمی جنتوں کے بلند ترین درجات میں محمد ﷺ کی رفاقت کا طالب ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس دوران آپ ﷺ مسلسل فرما رہے تھے: ”مانگو، تمہیں عطا کیا جائے گا، مانگو، تمہیں عطا کیا جائے گا“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں انہیں یہ خوشخبری دینے کے لیے دوڑا تو دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے پہنچ چکے تھے اور وہ نیکیوں میں سبقت لے جانے والے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو جعفر محمد بن علي الوَرّاق حَمْدان، حدَّثنا يحيى بن يَعلَى المُحاربي، حدَّثنا زائدة، عن منصور، عن زيد بن وهب، عن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ: "رَضِيتُ لأُمَّتِي مَا رَضِيَ لها ابن أمِّ عبدٍ" (1). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله عِلَّةٌ من حديث سفيان الثوريِّ وإسرائيل بن يونس عن منصور. أما حديث سفيانَ الثوريِّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5387 - مرسل
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5387 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنی امت کے لیے وہی بات پسند کی ہے جو ابنِ امِ عبد (عبد اللہ بن مسعود) نے ان کے لیے پسند کی ہے۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ سفیان ثوری اور اسرائیل بن یونس کی منصور سے روایت کی وجہ سے اس میں ایک علت ہے۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ سفیان ثوری اور اسرائیل بن یونس کی منصور سے روایت کی وجہ سے اس میں ایک علت ہے۔
فأخبرناهُ محمد بن موسى بن عِمران الفقيه، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا أبو كُريب، حدَّثنا وَكيع، عن سفيان (1). وأما حديث إسرائيل:
حافظ طلحہ بابر
امام حاکم فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا حدیث سفیان ثوری نے بھی منصور سے روایت کی ہے۔
فأخبرناه أبو عبد الله الصَّفّار، حدَّثنا أحمد بن مِهْران، حدَّثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيلُ، جميعًا عن منصور، عن القاسم بن عبد الرحمن أنَّ رسول الله ﷺ قال: "رَضِيتُ لأُمّتي ما رَضِيَ لها ابن أمِّ عبدٍ".
حافظ طلحہ بابر
اسرائیل بن یونس بھی منصور کے واسطے سے قاسم بن عبد الرحمن سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے اپنی امت کے لیے وہی پسند کیا ہے جو ان کے لیے ابنِ امِ عبد نے پسند کیا ہے۔“
أخبرنا عبد الرحمن بن الحَسن القاضي، حدَّثنا إبراهيم بن الحُسين، حدَّثنا المُعافَى بن سليمان الحَرّاني، حدَّثنا القاسم بن مَعن، عن منصور، عن أبي إسحاق، عن عاصم بن ضَمْرة، عن علي، قال: قال رسول الله ﷺ: "لو كنتُ مُستخلِفًا أحدًا من غير مَشُورة، لاستخلفتُ عليهم ابنَ أمِّ عَبْدٍ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5389 - عاصم بن ضمرة ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5389 - عاصم بن ضمرة ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں کسی کو مشورے کے بغیر خلیفہ مقرر کرنے والا ہوتا تو ابنِ امِ عبد (عبد اللہ بن مسعود) کو ان پر خلیفہ بنا دیتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔