کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو شخص قرآن کو تازہ تازہ نازل ہونے کی طرح پڑھنا چاہے وہ ابنِ اُمِّ عبد رضی اللہ عنہ کی قراءت پر پڑھے
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد القرشي، بالكوفة، حدَّثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدَّثنا مُصعب بن المِقدام، حدَّثنا سفيان، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلقمة، عن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن أحبَّ أن يقرأ القرآنَ غَضًّا كما أُنزِل، فلْيَقرأه على قراءةِ ابن أمِّ عبدٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5390 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5390 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ وہ قرآن ویسے ہی تروتازہ پڑھے جیسے وہ نازل ہوا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ ابنِ امِ عبد (عبد اللہ بن مسعود) کی قرات کے مطابق پڑھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدل، حدَّثنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: حدثني أبي، عن الأعمش، عن زيد بن وهب، قال: كنتُ جالسًا عند عمر إذ جاء رجلٌ نَحيفٌ، فجعل يَنظُر إليه ويَتهلَّلُ وجهه، ثم قال: كُنَيفٌ مُلِئَ عِلْمًا، كُنَيفٌ مُلِىَ علمًا! يعني عبد الله بن مسعودٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5391 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5391 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک نحیف و دبلے پتلے شخص (عبد اللہ بن مسعود) آئے، عمر رضی اللہ عنہ انہیں دیکھ کر خوشی سے دمکنے لگے اور فرمایا: ”علم سے بھرا ہوا ایک چھوٹا سا ظرف، علم سے بھرا ہوا ایک چھوٹا سا ظرف!“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرّة، عن أبي البَخْتَري، عن علي؛ قال: قيل له: أخبرنا عن أصحاب محمد ﷺ، قال: عن أيِّهم؟ قال: أخبرنا عن عبد الله بن مسعود، قال: عَلِمَ الكتاب والسُّنَّة، ثم انتهى وكفى به؛ وذكر باقي الحديث (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5392 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5392 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے پوچھا کہ کن کے متعلق؟ لوگوں نے عرض کی: ہمیں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتائیے، تو انہوں نے فرمایا: ”انہوں نے کتاب اللہ اور سنت کا علم حاصل کیا، پھر وہ (علم کی) انتہا تک پہنچ گئے اور یہی ان کی فضیلت کے لیے کافی ہے“، پھر انہوں نے باقی حدیث ذکر کی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو علي الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن بشّار، حدثنا مُؤمَّل بن إسماعيل، حدثنا سفيان، عن المِقدام بن شُريح، عن أبيه، عن سعد بن أبي وقّاص، في هذه الآية: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾ [الأنعام: 52]، قال: نزلت في خَمس من قُريش، أنا وابنُ مسعود فيهم، فقالت قُريش للنبي ﷺ: لو طردت هؤلاء عنك جالسناك، تُذني هؤلاء دُونَنا؟ فنزلت: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ﴾ إلى قوله: ﴿بِالشَّاكِرِينَ﴾ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5393 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5393 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے اس آیت ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ﴾ [سورة الأنعام: 52] کے متعلق روایت ہے کہ یہ قریش کے پانچ افراد کے بارے میں نازل ہوئی جن میں میں اور ابنِ مسعود بھی شامل تھے، قریش نے نبی کریم ﷺ سے کہا تھا کہ اگر آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے دور کر دیں تو ہم آپ کے پاس بیٹھا کریں گے، کیا آپ ہمیں چھوڑ کر ان لوگوں کو اپنے قریب کرتے ہیں؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ﴾ سے ﴿بِالشَّاكِرِينَ﴾ [سورة الأنعام: 52-53] تک۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔