حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز ومحمد بن غالب قالا: حدَّثنا أبو حُذيفة. وحدثنا دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدَّثنا عبد العزيز بن معاوية البصري، حدَّثنا أبو حُذيفة، حدَّثنا سفيان الثَّوري، عن منصور، عن هِلال بن يَسَافٍ، عن عبد الله بن ظالم، عن سعيد بن زيد، قال: قال رسول الله ﷺ: "عشرةٌ في الجنة"، فذكر أبا بكر وعمرَ وعثمانَ وعليًّا وطلحةَ والزبيرَ وعبد الرحمن بنَ عوف وسعد بنَ أبي وقاص وسعيدَ بنَ زيد وعبدَ الله بنَ مسعود (1)
هذا حديث تفرَّد بذكر ابن مسعود فيه أبو حُذيفة، وقد احتجَّ البخاريُّ بأبي حذيفة، إلا أنهما لم يحتجا بعبد الله بن ظالم.
هذا حديث تفرَّد بذكر ابن مسعود فيه أبو حُذيفة، وقد احتجَّ البخاريُّ بأبي حذيفة، إلا أنهما لم يحتجا بعبد الله بن ظالم.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دس لوگ جنتی ہیں“، پھر آپ ﷺ نے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کا تذکرہ فرمایا۔
اس حدیث میں ابن مسعود کے تذکرے کے ساتھ ابوحذیفہ منفرد ہیں، اور اگرچہ امام بخاری نے ابوحذیفہ سے احتجاج کیا ہے، مگر شیخین نے عبد اللہ بن ظالم سے احتجاج نہیں کیا۔
اس حدیث میں ابن مسعود کے تذکرے کے ساتھ ابوحذیفہ منفرد ہیں، اور اگرچہ امام بخاری نے ابوحذیفہ سے احتجاج کیا ہے، مگر شیخین نے عبد اللہ بن ظالم سے احتجاج نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، قال: قُرئ على عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، وأنا أسمعُ، حدَّثنا أبو عَتاب سهْل بن حماد، حدَّثنا شعبة، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبيه، قال: كان ابن مسعود على شجرةٍ يَجتَني لهم منها، فهبَّتِ الريحُ وكَشَفَت عن ساقيه، فقال رسول الله ﷺ: "والذي نفسي بيده، لَهُما أثقَلُ في الميزان من أُحُد" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5385 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5385 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ایک درخت پر چڑھے ہوئے تھے تاکہ لوگوں کے لیے اس کے پھل توڑیں، تو ہوا چلی جس سے ان کی پنڈلیاں کھل گئیں (اور لوگوں کو ان کا دبلا پن نظر آیا)، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، یہ دونوں پنڈلیاں میزان میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔