کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ کسی عورت کے سپرد کیا
فحدَّثني أبو علي الحافظ، حدثنا الهيثم بن خلَف الدُّوْري، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثني خالد بن الحارث، حدثنا حُميد الطويل، عن الحسن، عن أبي بَكْرة قال: عَصَمَني الله بشيءٍ سمعتُه من رسول الله ﷺ ولما هلَك كِسْرى، قال: "مَن استخلَفُوا؟ " قالوا: ابنتَه، قال: فقال: "لن يُفلَحَ قومٌ وَلَّوا أمرَهم امرأةٌ". قال: فلما قَدِمَت عائشةُ، ذكرتُ قولَ رسولِ الله ﷺ فَعَصَمَني اللهُ به (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4608 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وجہ سے فتنے سے محفوظ رکھا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی، جب (ایران کا بادشاہ) کسریٰ ہلاک ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”ایرانیوں نے کس کو اپنا حکمران بنایا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اس کی بیٹی کو، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنے معاملات کی باگ ڈور کسی عورت کے سپرد کر دی۔“ وہ کہتے ہیں: ”پس جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (میدانِ جنگ میں) تشریف لائیں تو مجھے رسول اللہ ﷺ کا وہ قول یاد آگیا اور اللہ نے مجھے اس کے ذریعے محفوظ فرما لیا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4658
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،حميد الطويل هو ابن أبي حميد، والحسن: هو البصري.» [ترقيم الرساله 4658] [ترقيم الشركة 4634] [ترقيم العلميه 4608]
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفِيد، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا عبد الجبار بن الوَرْد، عن عمّار الدُّهْني، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن أم سلمة، قالت: ذكرَ النبيُّ ﷺ خُروجَ بعضِ أمهاتِ المؤمنين، فضحكتْ عائشةُ، فقال: "انظُري يا حُمَيراء، أن لا تكوني أنتِ"، ثم التفتَ إلى عليٍّ، فقال: "إن وَليتَ من أمرِها شيئًا فارفُقْ بها" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4610 - عبد الجبار لم يخرجا له
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بعض ازواجِ مطہرات کے نکلنے کا تذکرہ فرمایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حمیرہ! دیکھنا کہیں وہ تم ہی نہ ہو،“ پھر آپ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے کسی معاملے کا اختیار ملے تو ان کے ساتھ نرمی اور شفقت کا سلوک کرنا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4659
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ليِّن عبد الجبار بن الورد ليس بذاك الثقة الضابط
تخریج حدیث «إسناده ليِّن عبد الجبار بن الورد ليس بذاك الثقة الضابط، وثقه غير واحد، لكن قال البخاري: يخالف في حديثه، وقال ابن حبان: يخطئ ويهم وليّنه الدارقطني، ثم إنَّ في الإسناد شبهة انقطاع، فقد قال الذهبي في "معجم شيوخه" 1/ 201 في حديث ذكره لسالم عن أم سلمة: إنَّ سالمًا لا ...» [ترقيم الرساله 4659] [ترقيم الشركة 4636] [ترقيم العلميه 4610]
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي من أصل كتابه، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي، حدثني محمد بن سليمان بن الأصبهاني، عن سعيد بن مسلم المكي (1)، عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، قالت: لما سارَ عليٌّ إلى البصرة دخل على أم سلمةَ زوج النبي ﷺ يُودِّعها، فقالت: سِرْ في حفظ الله وفي كَنَفِه، فوالله إنك لعلى الحقِّ والحقُّ معك، ولولا أني أكرهُ أن أعصيَ الله ورسولَه، فإنه أمَرَنا ﷺ أن نَقِرَّ في بيوتنا، لسِرْتُ معك، ولكن واللهِ لأُرسلنّ معك مَن هو أفضلُ عندي وأعزُّ عليَّ من نفسي؛ ابني عمرُ (2). هذه الأحاديث الثلاثة كلُّها صحيحة على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4611 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو وہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس الوداعی ملاقات کے لیے تشریف لائے، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی حفاظت اور اس کی پناہ میں تشریف لے جائیے، اللہ کی قسم! آپ ہی حق پر ہیں اور حق آپ کے ساتھ ہے، اور اگر مجھے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا خوف نہ ہوتا کیونکہ آپ ﷺ نے ہمیں اپنے گھروں میں ٹھہرے رہنے کا حکم دیا ہے، تو میں ضرور آپ کے ساتھ چلتی، لیکن اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ اس شخصیت کو روانہ کروں گی جو میرے نزدیک خود میری جان سے بھی زیادہ محبوب اور عزیز ہے، یعنی میرا بیٹا عمر۔“
یہ تینوں احادیث شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4660
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قويٌّ من أجل عبد الرحمن بن صالح الأزدي
تخریج حدیث «إسناده قويٌّ من أجل عبد الرحمن بن صالح الأزدي، فهو صدوق لا بأس به.» [ترقيم الرساله 4660] [ترقيم الشركة 4637] [ترقيم العلميه 4611]
حدثنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب [بالعبدي] (3) حدثنا جعفر بن عون، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، عن عائشة قالت: وَدِدْتُ أني كنتُ ثَكِلْتُ عشرةً مثل الحارث بن هشام وأني لم أَسِرْ مَسِيري مع ابن الزُّبير (4)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4609 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”میری یہ تمنا ہے کہ کاش! حارث بن ہشام جیسے میرے دس بیٹے فوت ہو جاتے (اور میں وہ دکھ سہہ لیتی) لیکن میں ابن زبیر کے ساتھ اس سفر (جنگِ جمل) پر نہ نکلی ہوتی۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4661
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 4661] [ترقيم الشركة 4635] [ترقيم العلميه 4609]
وحدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا الهيثم بن خلَف الدُّوري، حدثنا إسماعيل بن موسى السُّدِّي، حدثنا عبد السلام بن حرب، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: جاء الزُّبيرُ إلى عمر بن الخطاب يستأذنُه في الغزو، فقال عمرُ: اجلس في بيتِك، فقد غزوتَ مع رسولِ الله ﷺ، قال: فردَّد ذلك عليه، فقال له عمر في الثالثة أو التي تليها: اقعُد في بيتك، فوالله إني لأجدُ بطَرَفِ المدينةِ منكَ ومن أصحابك أن تَخرُجُوا فتُفْسِدُوا عليَّ أصحاب محمدٍ ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4612 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے گھر میں بیٹھے رہو، تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات کر چکے ہو۔“ انہوں نے بار بار اصرار کیا تو تیسری یا اس کے بعد والی مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے گھر میں بیٹھو، اللہ کی قسم! مجھے مدینہ کے اطراف میں تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی جانب سے یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ تم (فتنے کے لیے) نکلو گے اور محمد ﷺ کے صحابہ کے معاملات کو مجھ پر خراب کر دو گے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل إسماعيل بن موسى السُّدِّي
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل إسماعيل بن موسى السُّدِّي، وقد توبع على بعضه.» [ترقيم الرساله 4662] [ترقيم الشركة 4638] [ترقيم العلميه 4612]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: لما بَلَغَت عائشة بعض ديار بني عامر نَبَحَت عليها الكلابث، فقالت: أيُّ ماء هذا؟ قالوا: الحوأب، قالت ما أظنُّنى إلا راجعةً، فقال الزبيرُ: لا بعدُ، تَقْدَمي ويراكِ الناسُ، ويُصلِحُ الله ذاتَ بينِهم قالت ما أظنُّني إلَّا راجعةً، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "كيف بإحداكُنَّ إذ نَبَحتْها كلابُ الحَوْأب" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بنی عامر کے کسی مقام پر پہنچیں تو وہاں کے کتوں نے ان پر بھونکنا شروع کر دیا، انہوں نے پوچھا: ”یہ کون سا مقام ہے؟“ لوگوں نے بتایا: یہ حوأب کا چشمہ ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ اب میں واپس لوٹ جاؤں گی،“ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں، بلکہ آپ آگے بڑھیں، لوگ آپ کو دیکھیں گے تو اللہ ان کے درمیان صلح فرما دے گا،“ انہوں نے پھر فرمایا: ”مجھے لگتا ہے کہ میں واپس چلی جاؤں گی کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا: ”تم میں سے اس کا کیا حال ہوگا جب اس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے۔““
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4663
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 4663] [ترقيم الشركة 4639] [ترقيم العلميه 4613]