المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً . باب: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ کسی عورت کے سپرد کیا
حدیث نمبر: 4663
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس بن أبي حازم قال: لما بَلَغَت عائشة بعض ديار بني عامر نَبَحَت عليها الكلابث، فقالت: أيُّ ماء هذا؟ قالوا: الحوأب، قالت ما أظنُّنى إلا راجعةً، فقال الزبيرُ: لا بعدُ، تَقْدَمي ويراكِ الناسُ، ويُصلِحُ الله ذاتَ بينِهم قالت ما أظنُّني إلَّا راجعةً، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "كيف بإحداكُنَّ إذ نَبَحتْها كلابُ الحَوْأب" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4613 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بنی عامر کے کسی مقام پر پہنچیں تو وہاں کے کتوں نے ان پر بھونکنا شروع کر دیا، انہوں نے پوچھا: ”یہ کون سا مقام ہے؟“ لوگوں نے بتایا: یہ حوأب کا چشمہ ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ اب میں واپس لوٹ جاؤں گی،“ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں، بلکہ آپ آگے بڑھیں، لوگ آپ کو دیکھیں گے تو اللہ ان کے درمیان صلح فرما دے گا،“ انہوں نے پھر فرمایا: ”مجھے لگتا ہے کہ میں واپس چلی جاؤں گی کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا تھا: ”تم میں سے اس کا کیا حال ہوگا جب اس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے۔““
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24254) عن يحيى بن سعيد القطان، و 41 / (24654) من طريق شعبة بن الحجاج، وابن حبان (6732) من طريق وكيع بن الجراح وعلي بن مُسهِر، أربعتهم عن إسماعيل بن أبي خالد، به. وأبهم يحيى القطان ووكيع وابن مُسهر اسمَ الرجل الذي حثّ عائشة على المُضيِّ، وسمّاهُ شعبة كما سمَّاهُ يعلى بنُ عُبيد، يعني الزبيرَ بن العوام.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24254) نے یحییٰ القطان سے؛ (41/ 24654) شعبہ کے طریق سے؛ اور ابن حبان (6732) نے وکیع اور علی بن مسہر کے طریق سے، ان چاروں نے اسماعیل بن ابی خالد سے روایت کیا ہے۔ یحییٰ، وکیع اور ابن مسہر نے اس شخص کا نام مبہم رکھا جس نے عائشہ کو آگے بڑھنے پر ابھارا، جبکہ شعبہ اور یعلیٰ بن عبید نے اس کا نام زبیر بن العوام بتایا ہے۔
والحوأب: ماء من البصرة على طريق مكة.
نوٹ / توضیح: "الحوأب": بصرہ سے مکہ کے راستے میں ایک پانی کی جگہ ہے۔
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 40/ (24254) عن يحيى بن سعيد القطان، و 41 / (24654) من طريق شعبة بن الحجاج، وابن حبان (6732) من طريق وكيع بن الجراح وعلي بن مُسهِر، أربعتهم عن إسماعيل بن أبي خالد، به. وأبهم يحيى القطان ووكيع وابن مُسهر اسمَ الرجل الذي حثّ عائشة على المُضيِّ، وسمّاهُ شعبة كما سمَّاهُ يعلى بنُ عُبيد، يعني الزبيرَ بن العوام.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (40/ 24254) نے یحییٰ القطان سے؛ (41/ 24654) شعبہ کے طریق سے؛ اور ابن حبان (6732) نے وکیع اور علی بن مسہر کے طریق سے، ان چاروں نے اسماعیل بن ابی خالد سے روایت کیا ہے۔ یحییٰ، وکیع اور ابن مسہر نے اس شخص کا نام مبہم رکھا جس نے عائشہ کو آگے بڑھنے پر ابھارا، جبکہ شعبہ اور یعلیٰ بن عبید نے اس کا نام زبیر بن العوام بتایا ہے۔
والحوأب: ماء من البصرة على طريق مكة.
نوٹ / توضیح: "الحوأب": بصرہ سے مکہ کے راستے میں ایک پانی کی جگہ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4663 سے ماخوذ ہے۔