المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً . باب: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ کسی عورت کے سپرد کیا
حدثني أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي من أصل كتابه، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا عبد الرحمن بن صالح الأزدي، حدثني محمد بن سليمان بن الأصبهاني، عن سعيد بن مسلم المكي (1)، عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، قالت: لما سارَ عليٌّ إلى البصرة دخل على أم سلمةَ زوج النبي ﷺ يُودِّعها، فقالت: سِرْ في حفظ الله وفي كَنَفِه، فوالله إنك لعلى الحقِّ والحقُّ معك، ولولا أني أكرهُ أن أعصيَ الله ورسولَه، فإنه أمَرَنا ﷺ أن نَقِرَّ في بيوتنا، لسِرْتُ معك، ولكن واللهِ لأُرسلنّ معك مَن هو أفضلُ عندي وأعزُّ عليَّ من نفسي؛ ابني عمرُ (2). هذه الأحاديث الثلاثة كلُّها صحيحة على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4611 - على شرط البخاري ومسلمسیدہ عمرہ بنت عبدالرحمن سے روایت ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو وہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس الوداعی ملاقات کے لیے تشریف لائے، تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی حفاظت اور اس کی پناہ میں تشریف لے جائیے، اللہ کی قسم! آپ ہی حق پر ہیں اور حق آپ کے ساتھ ہے، اور اگر مجھے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کا خوف نہ ہوتا کیونکہ آپ ﷺ نے ہمیں اپنے گھروں میں ٹھہرے رہنے کا حکم دیا ہے، تو میں ضرور آپ کے ساتھ چلتی، لیکن اللہ کی قسم! میں آپ کے ساتھ اس شخصیت کو روانہ کروں گی جو میرے نزدیک خود میری جان سے بھی زیادہ محبوب اور عزیز ہے، یعنی میرا بیٹا عمر۔“
یہ تینوں احادیث شیخین کی شرط پر صحیح ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (1) "المستدرک" کے اصل نسخوں میں سعید بن مسلم کی نسبت اسی طرح "مکی" آئی ہے۔ حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" (23583) میں اسے "ابن بانک" کے ساتھ مقید کیا ہے اور اس کی نسبت (مکی یا مدنی) ذکر نہیں کی۔ پس اگر یہ سعید بن مسلم وہی ابن بانک ہے - جیسا کہ ظاہر ہے - تو وہ "مدنی" ہے نہ کہ "مکی"۔
(2) إسناده قويٌّ من أجل عبد الرحمن بن صالح الأزدي، فهو صدوق لا بأس به.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند عبد الرحمن بن صالح الازدی کی وجہ سے "قوی" ہے، وہ صدوق ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں۔