کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کا دفاع
فحدَّثَناه عليُّ بن عيسى الحِيري، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن سالم بن صالح بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن أبيه، عن محمود بن لَبيد، عن محمد بن مَسلَمة، قال: قلتُ: يا رسول الله، كيف أصنعُ إذا اختلفَ المُصلُّون؟ قال: "تَخْرُجُ بسيِفك إلى الحَرّة فتضربُها به، ثم تَدخُل بيتَك حتى تأتيَك مَنِيّةٌ - أو قال: مِيتةٌ - قاضِيةٌ، أو يدٌ خاطئةٌ" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4604 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر
محمد بن مسلمہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر (اہلِ قبلہ) نمازیوں میں اختلاف اور خانہ جنگی ہو جائے تو میں کیا کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی تلوار لے کر حرہ (مدینہ کی پتھریلی زمین) کی طرف نکل جانا اور اسے وہاں مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر میں گوشہ نشین ہو جانا یہاں تک کہ تمہیں موت آجائے یا کوئی خطا کار ہاتھ تم تک پہنچ کر تمہیں قتل کر دے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4654
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سالم بن صالح، فهو لا يُعرف كما قال أبو حاتم الرازي، ويحيى بن عبد الحميد - وهو الحِمّاني - فيه ضعف، لكنه متابع، وقد رُوي هذا الخبرُ من طُرق أحدها صحيح.» [ترقيم الرساله 4654] [ترقيم الشركة 4630] [ترقيم العلميه 4604]
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثني إبراهيم بن جعفر الأنصاري، حدثني سليمان بن محمود، من ولد محمد بن مَسلَمة الأنصاري، عن سعد بن زيد بن سعد الأشهلي: أنه أَهدَى إلى رسولِ الله ﷺ سيفًا من نَجْران، فلما قَدِم عليه أعطاهُ محمدَ بنَ مسلمة، وقال: "جاهِدْ بهذا في سبيل الله، فإذا اختلَفتْ أعناقُ الناس فاضرِبْ به الحَجَرَ، ثم ادخُل بيتَك، وكن حِلْسًا مُلقًى، حتى تَقتُلَك يدٌ خاطئةٌ أو تأتيَك مَنيَّةٌ قاضيةٌ" (1). قال الحاكم: فبهذِه الأسبابِ وما جانسها كان اعتزالُ من اعتزل عن القتال مع عليّ ﵁، وبضدّها كان قتالُ مَن قاتَلَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4605 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سعد بن زید بن سعد اشہلی سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو نجران کی ایک تلوار ہدیہ کی، جب وہ آپ ﷺ کی خدمت میں لائے تو آپ ﷺ نے وہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو عطا کر دی اور فرمایا: ”اس کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو، لیکن جب مسلمانوں کی گردنیں ایک دوسرے سے ٹکرانے لگیں (آپس میں لڑنے لگیں) تو اسے پتھر پر مار کر توڑ دینا، پھر اپنے گھر میں گوشہ نشین ہو جانا اور اس طرح پڑے رہنا جیسے ٹاٹ بچھا ہوتا ہے، یہاں تک کہ کوئی خطا کار ہاتھ تمہیں قتل کر دے یا تمہیں موت آجائے۔“
امام حاکم نے کہا: پس انہی وجوہات اور ان جیسی دیگر دلیلوں کی بنا پر ان لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال سے کنارہ کشی اختیار کی، جبکہ اس کے برعکس اسباب کی بنیاد پر ان لوگوں نے قتال کیا جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4655
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن إن شاء الله
تخریج حدیث «إسناده حسن إن شاء الله من أجل سليمان بن محمود - وهو سليمان بن محمد بن محمود بن محمد بن مسلمة - فقد روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، وبهذا الإسناد أثبت غيرُ واحدٍ من أهل النقد صحبةَ سعد بن زيد بن سعد الأشهلي، منهم أبو حاتم الرازي ...» [ترقيم الرساله 4655] [ترقيم الشركة 4631] [ترقيم العلميه 4605]
فحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سُفيان، حدثنا أبو موسى - يعني إسرائيل بن موسى - قال: سمعتُ الحسن يقول: جاء طلحةُ والزُّبير إلى البصرة، فقال لهم الناسُ: ما جاء بكم؟ قالوا: نَطلُب دمَ عثمان قال الحسنُ: أيا سُبحانَ الله! أفَما كان للقوم عُقولٌ فيقولون: والله ما قتلَ عثمانَ غيرُكم؟! قال: فلما جاء عليٌّ إلى الكوفة، وما كان للقوم عُقولٌ فيقولون: أيُّها الرجلُ، إنا واللهِ ما ضُمِّنّاك؟ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4606 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
حسن بصری سے مروی ہے کہ طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما بصرہ آئے تو لوگوں نے ان سے پوچھا: ”آپ حضرات کس مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”ہم عثمان (رضی اللہ عنہ) کے خون کا قصاص لینے آئے ہیں،“ حسن بصری نے (تبصرہ کرتے ہوئے) کہا: ”سبحان اللہ! کیا ان لوگوں کے پاس اتنی عقل بھی نہیں تھی کہ وہ ان سے کہتے کہ اللہ کی قسم! عثمان کو تمہارے سوا کسی نے قتل نہیں کیا (یعنی تم ہی ان کے گرد جمع تھے)؟“ وہ مزید کہتے ہیں: جب علی رضی اللہ عنہ کوفہ آئے تو کیا لوگوں کے پاس اتنی عقل نہیں تھی کہ وہ کہتے: ”اے شخص! اللہ کی قسم ہم نے تمہیں (ایسے معاملات کی) ضامن نہیں بنایا تھا؟“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4656
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد. الحُميدي: هو عبد الله بن الزبير الأسدي المكي
تخریج حدیث «إسناده جيد. الحُميدي: هو عبد الله بن الزبير الأسدي المكي، وسفيان: هو ابن عيينة، والحسن: هو البصري.» [ترقيم الرساله 4656] [ترقيم الشركة 4632] [ترقيم العلميه 4606]
فحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا يحيى بن مَعِين، عن هشام بن يوسف، عن عبد الله بن مصعب، قال: أخبرني موسى بن عُقْبة، قال: قال علقمة بن وقّاص اللَّيثي: لما خرج طلحةُ والزبيرُ وعائشةُ لطلب دم عثمان ﵃ أجمعين - كانت عائشةُ خطيبةَ القوم بها، وهم لها تَبَعٌ، فعَرضُوا من معهم بذاتِ عِرقٍ، فاستصغَروا عُرْوة بنَ الزبير وأبا بكر ابن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، فردُّوهُما. قال: ورأيتُ طلحةَ وأَحبُّ المجالسِ إليه أخلاها، وهو ضارِبٌ بلِحْيتِه على زَوْرِه، قال: فقلتُ له: يا أبا محمد إني أراك وأحبُّ المجالسِ إليك أخلاها، وأنت ضاربٌ بلحيتِك على زَوْرِك، إن كنتَ تكرهُ هذا الأمرَ فدَعْهُ، فليس يُكرِهُك عليه أحدٌ، قال: يا علقمةَ بنَ وقْاص، لا تَلُمني، كنا أمسِ يدًا واحدةً على مَن سِوانا، فأصبحنا اليومَ جَبَلَين من حديدٍ يَزْحَفُ أحدُنا إلى صاحبِه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4607 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ علقمہ بن وقاص لیثی نے کہا: ”جب طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم، عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص لینے کے لیے نکلے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی ترجمان و خطیبہ تھیں اور سب ان کے پیروکار تھے، جب وہ ذاتِ عرق کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے عروہ بن زبیر اور ابوبکر بن عبدالرحمن کو کم عمری کی وجہ سے واپس بھیج دیا،“ وہ کہتے ہیں: ”میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایسی جگہ پسند کر رہے تھے جہاں کوئی نہ ہو اور وہ اپنی داڑھی کو اپنے سینے پر دبائے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا: اے ابومحمد! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ تنہائی پسند کر رہے ہیں اور داڑھی سینے پر رکھے ہوئے (فکر مند) ہیں، اگر آپ کو یہ معاملہ ناپسند ہے تو اسے چھوڑ دیں، آپ کو اس پر کوئی مجبور نہیں کر رہا، تو انہوں نے کہا: اے علقمہ بن وقاص! مجھے ملامت نہ کرو، کل ہم دوسروں کے خلاف ایک ہاتھ (متحد) تھے لیکن آج ہم لوہے کے دو پہاڑ بن چکے ہیں جن میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کی طرف یلغار کر رہا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4657
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن، وجوّده الذهبي في "تلخيصه" عند طريقه الآتية عند المصنف برقم (5694)، وذلك من أجل عبد الله بن مصعب - وهو ابن ثابت الزبيري - فقد كان أميرًا جميل السيرة جليل القدر عظيم الشرف محمودًا في ولايته، وإنما تكلّم فيه ابن مَعِين لأنه لم يكن صاحب كتاب، فقال عنه: ...» [ترقيم الرساله 4657] [ترقيم الشركة 4633] [ترقيم العلميه 4607]