حدیث نمبر: 4659
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله الحَفِيد، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا عبد الجبار بن الوَرْد، عن عمّار الدُّهْني، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن أم سلمة، قالت: ذكرَ النبيُّ ﷺ خُروجَ بعضِ أمهاتِ المؤمنين، فضحكتْ عائشةُ، فقال: "انظُري يا حُمَيراء، أن لا تكوني أنتِ"، ثم التفتَ إلى عليٍّ، فقال: "إن وَليتَ من أمرِها شيئًا فارفُقْ بها" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4610 - عبد الجبار لم يخرجا له
حافظ طلحہ بابر

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بعض ازواجِ مطہرات کے نکلنے کا تذکرہ فرمایا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس دیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے حمیرہ! دیکھنا کہیں وہ تم ہی نہ ہو،“ پھر آپ ﷺ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر تمہیں ان کے کسی معاملے کا اختیار ملے تو ان کے ساتھ نرمی اور شفقت کا سلوک کرنا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4659
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ليِّن عبد الجبار بن الورد ليس بذاك الثقة الضابط
تخریج حدیث «إسناده ليِّن عبد الجبار بن الورد ليس بذاك الثقة الضابط، وثقه غير واحد، لكن قال البخاري: يخالف في حديثه، وقال ابن حبان: يخطئ ويهم وليّنه الدارقطني، ثم إنَّ في الإسناد شبهة انقطاع، فقد قال الذهبي في "معجم شيوخه" 1/ 201 في حديث ذكره لسالم عن أم سلمة: إنَّ سالمًا لا ...» [ترقيم الرساله 4659] [ترقيم الشركة 4636] [ترقيم العلميه 4610]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ليِّن عبد الجبار بن الورد ليس بذاك الثقة الضابط، وثقه غير واحد، لكن قال البخاري: يخالف في حديثه، وقال ابن حبان: يخطئ ويهم وليّنه الدارقطني، ثم إنَّ في الإسناد شبهة انقطاع، فقد قال الذهبي في "معجم شيوخه" 1/ 201 في حديث ذكره لسالم عن أم سلمة: إنَّ سالمًا لا يُحفظ له سماعٌ من أم سلمة، ونحوه قول الحافظ ابن حجر في "إتحاف المهرة" بين يدي الحديث (23404): ما أظن سالمًا سمع من أم سلمة، ونقل العلائي في "جامع التحصيل" أنَّ بعضهم جزم بعدم سماع سالم من أم سلمة.
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "لین" (کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اولاً: عبد الجبار بن الورد زیادہ مضبوط اور قوی ثقہ نہیں ہیں، اگرچہ کئی ایک نے ان کی توثیق کی ہے، لیکن بخاری نے فرمایا: وہ اپنی حدیث میں مخالفت کرتے ہیں، ابن حبان نے کہا: وہ غلطی اور وہم کا شکار ہو جاتے ہیں، اور دارقطنی نے انہیں کمزور (لین) قرار دیا ہے۔ ثانیاً: سند میں انقطاع کا شبہ ہے۔ ذہبی نے "معجم شیوخہ" (1/ 201) میں سالم عن ام سلمہ کی ایک حدیث کے ذیل میں فرمایا: سالم کا ام سلمہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ اسی طرح حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" (23404) میں فرمایا: میرا نہیں خیال کہ سالم نے ام سلمہ سے سنا ہے۔ اور علائی نے "جامع التحیصل" میں نقل کیا ہے کہ بعض نے سالم کے ام سلمہ سے سماع نہ ہونے کا یقین ظاہر کیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 6/ 411 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (6/ 411) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4659 سے ماخوذ ہے۔