المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً . باب: وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہوگی جس نے اپنا معاملہ کسی عورت کے سپرد کیا
حدیث نمبر: 4662
وحدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا الهيثم بن خلَف الدُّوري، حدثنا إسماعيل بن موسى السُّدِّي، حدثنا عبد السلام بن حرب، حدثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس بن أبي حازم، قال: جاء الزُّبيرُ إلى عمر بن الخطاب يستأذنُه في الغزو، فقال عمرُ: اجلس في بيتِك، فقد غزوتَ مع رسولِ الله ﷺ، قال: فردَّد ذلك عليه، فقال له عمر في الثالثة أو التي تليها: اقعُد في بيتك، فوالله إني لأجدُ بطَرَفِ المدينةِ منكَ ومن أصحابك أن تَخرُجُوا فتُفْسِدُوا عليَّ أصحاب محمدٍ ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4612 - صحيححافظ طلحہ بابر
قیس بن ابی حازم سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر جہاد پر جانے کی اجازت طلب کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے گھر میں بیٹھے رہو، تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات کر چکے ہو۔“ انہوں نے بار بار اصرار کیا تو تیسری یا اس کے بعد والی مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے گھر میں بیٹھو، اللہ کی قسم! مجھے مدینہ کے اطراف میں تمہاری اور تمہارے ساتھیوں کی جانب سے یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ تم (فتنے کے لیے) نکلو گے اور محمد ﷺ کے صحابہ کے معاملات کو مجھ پر خراب کر دو گے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل إسماعيل بن موسى السُّدِّي، وقد توبع على بعضه.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند اسماعیل بن موسیٰ السدی کی وجہ سے "حسن" ہے، اور اس کے بعض حصے پر ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فقد أخرجه البزار (332) من طريق إسحاق بن منصور، عن عبد السلام بن حرب، به. لكن دون ترديد الزبير استئذانه، ودونَ جوابِ عُمر له في آخر الخبر، وإسناده صحيح كما قال الحافظ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (1944).
حوالہ / مصدر: اسے بزار (332) نے اسحاق بن منصور کے طریق سے، انہوں نے عبد السلام بن حرب سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن اس میں زبیر کے بار بار اجازت مانگنے اور آخر میں عمر کے جواب کا ذکر نہیں ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے (ابن حجر: مختصر زوائد البزار 1944)۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند اسماعیل بن موسیٰ السدی کی وجہ سے "حسن" ہے، اور اس کے بعض حصے پر ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فقد أخرجه البزار (332) من طريق إسحاق بن منصور، عن عبد السلام بن حرب، به. لكن دون ترديد الزبير استئذانه، ودونَ جوابِ عُمر له في آخر الخبر، وإسناده صحيح كما قال الحافظ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (1944).
حوالہ / مصدر: اسے بزار (332) نے اسحاق بن منصور کے طریق سے، انہوں نے عبد السلام بن حرب سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن اس میں زبیر کے بار بار اجازت مانگنے اور آخر میں عمر کے جواب کا ذکر نہیں ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے (ابن حجر: مختصر زوائد البزار 1944)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4662 سے ماخوذ ہے۔