کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ کی پشت مبارک پر مہرِ نبوت کبوتر کے انڈے کے برابر تھی
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا حُميد بن إبراهيم الصائغ، حدثنا شُعْبة، عن سِماك بن حرب، عن جابر بن سَمُرة، قال: رأيتُ خاتَمَ النُّبوَّة على ظهر رسول الله ﷺ مثلَ بَيضةِ الحَمامِ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4197 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4197 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی پشتِ مبارک پر مہرِ نبوت دیکھی جو کبوتر کے انڈے کی مانند تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو جعفر محمد بن حاتم الكَشِّيّ، حدثنا عبد بن حُميد، أخبرنا أبو عاصم، عن عَزْرَةَ بن ثابت، حدثني عِلْباءُ بن أحمرَ اليَشكُري، عن أبي زيد قال: قال لي رسول الله ﷺ: "يا أبا زيد ادْنُ فامْسَحُ ظَهْري" قال: فدنَوتُ منه ومسحتُ ظهرَه، ووضعتُ أصابعي على الخاتَم فغَمَزْتُها، فقيل له: ما الخاتَمُ؟ قال: شَعرٌ مُجتمِعٌ عند كتفِه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4198 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4198 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ابو زید! میرے قریب آؤ اور میری کمر پر ہاتھ پھیرو“ وہ کہتے ہیں کہ میں آپ کے قریب ہوا، آپ کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور مہرِ نبوت پر اپنی انگلیاں رکھ کر انہیں دبایا، ان سے پوچھا گیا کہ مہر کیا تھی؟ انہوں نے کہا: آپ کے کندھے کے پاس بالوں کا ایک مجموعہ تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر الشافعي وأبو بكر القطيعي في آخَرِين، قالوا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا حماد بن خالد، حدثنا مالك بن أنس، عن زياد بن سعد، عن الزُّهْري، عن أنس بن مالك، قال: سَدَلَ رسولُ الله ﷺ نَاصِيتَه ما شاء الله، ثم فَرَقَ بعدُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4199 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4199 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی پیشانی کے بال («نواسي») جب تک اللہ نے چاہا لٹکائے رکھتے تھے (جیسا کہ اہل کتاب کرتے تھے)، پھر اس کے بعد آپ نے ان میں مانگ نکالنا شروع کر دی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرْعة عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي، حدثنا علي بن عيّاش، حدثنا حَرِيز بن عُثمان: قلت لعبد الله بن بُسْر السُّلَمي: رأيتَ رسولَ الله ﷺ، أكانَ شيخًا؟ قال: كان في عَنْفَقَتِهِ شَعَراتٌ بِيضٌ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
حریز بن عثمان سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر سلمی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، کیا آپ ﷺ بوڑھے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ کے «عنفقه» (نیچے والے ہونٹ کے نیچے کے بالوں) میں چند بال سفید تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقِّي، حدثنا حسين بن عيّاش الرَّقّي، حدثنا جعفر بن بُرْقان، حدثنا عبد الله محمد بن محمد بن عَقِيل، قال: قَدِمَ أنسُ بن مالك المدينةَ وعمرُ بن عبد العزيز والٍ، فبعث إليه، عمرُ، وقال للرسول: سَلْهُ هل خَضَبَ رسولُ الله ﷺ؟ فإني رأيتُ شعرًا من شعره قد لُوِّن! فقال أنس: إنَّ رسول الله ﷺ كان قد مُتِّع بالسواد، ولو عَدَدتُ ما أقبَلَ عَلَيَّ من شَيبِهِ في رأسِه ولحيتِه ما كنتُ أزِيدُهُنّ على إحدى عشرةَ شَيْبة، وإنما هذا الذي لُوِّن من الطِّيبِ الذي كان يُطيِّبُ شعرَ رسولِ الله ﷺ (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4201 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4201 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن محمد بن عقیل سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے جبکہ عمر بن عبدالعزیز وہاں کے گورنر تھے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کی طرف ایک قاصد بھیجا اور اس سے کہا کہ ان سے پوچھو: کیا رسول اللہ ﷺ خضاب لگاتے تھے؟ کیونکہ میں نے آپ کے بالوں میں سے ایک بال دیکھا ہے جس کا رنگ بدلا ہوا تھا! سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ کے بال سیاہ ہی رہے تھے، اور اگر میں آپ کے سر اور داڑھی کے سفید بالوں کو شمار کرتا تو وہ گیارہ سے زیادہ نہ ہوتے، اور یہ جو رنگ بدلا ہوا ہے یہ اس خوشبو کی وجہ سے ہے جو رسول اللہ ﷺ اپنے بالوں میں لگایا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو سعيد الأحمَسي، حدثنا الحسين بن حُميد، حدثنا إبراهيم بن الحجّاج، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سماك بن حَرْب، عن جابر بن سَمُرة قال: ما كان في رأس رسول الله ﷺ إِلَّا شَعَرَاتٌ (1) في مَفْرِقِ رأسه، إذا ادَّهَن واراهُنَّ الدُّهْنُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4202 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4202 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک کی مانگ میں صرف چند سفید بال تھے، جب آپ تیل لگاتے تو وہ تیل ان بالوں کو چھپا دیتا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔