أخبرنا أبو العباس السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، أخبرنا أبو حمزة، عن عبد الملك بن عُمَير، عن إياد بن لَقِيطٍ، عن أبي رِمْثة، قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ وعليه بُزْدان أخضَران، وله شَعرٌ قد عَلاهُ الشَّيبُ، وشَيبُه أحمرُ مَخضوبٌ بالحِنّاء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4203 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4203 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ پر دو سبز چادریں تھیں، اور آپ کے بال سفیدی مائل ہو چکے تھے اور وہ سفیدی مہندی کے خضاب کی وجہ سے سرخ تھی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا محمد ابن كُنَاسة، حدثنا هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: سألتُ عائشةَ: هل شابَ رسولُ الله ﷺ؟ فقالت: ما شانَهُ اللهُ ببَيضاءَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد محفوظٌ عن هشام، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4204 - صحيح محفوظ
هذا حديث صحيح الإسناد محفوظٌ عن هشام، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4204 - صحيح محفوظ
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ کے بال سفید ہوئے تھے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو زیادہ سفید بالوں (کے عیب) سے محفوظ رکھا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ہشام سے محفوظ ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ہشام سے محفوظ ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، أخبرنا أبو مُسلِم، أَنَّ حجَّاج بن مِنْهَالٍ، حدَّثَهم، قال: حدثنا حمّاد بن سَلَمة، حدثنا ثابت، قال: قيل لأنس: ما كان شيبُ النبيِّ ﷺ؟ قال: ما شانَهُ اللهُ بالشَّيبِ، ما كان في رأسِهِ إِلَّا تسعَ عشرةَ أو ثمانَ عشرةَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهذه اللفظة إنما اشتَهَرتْ بعائشةَ ﵂، وهي من قولِ أنسٍ غريبةٌ جِدًّا (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4205 - على شرط مسلم وهو غريب
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهذه اللفظة إنما اشتَهَرتْ بعائشةَ ﵂، وهي من قولِ أنسٍ غريبةٌ جِدًّا (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4205 - على شرط مسلم وهو غريب
حافظ طلحہ بابر
ثابت سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: نبی کریم ﷺ کے کتنے بال سفید تھے؟ انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑھاپے (کی زیادتی) سے محفوظ رکھا تھا، آپ کے سر مبارک میں صرف انیس یا اٹھارہ بال سفید تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ الفاظ (اللہ نے آپ کو بڑھاپے سے محفوظ رکھا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے تو مشہور ہیں لیکن سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر یہ بہت غریب (منفرد) ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ الفاظ (اللہ نے آپ کو بڑھاپے سے محفوظ رکھا) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے تو مشہور ہیں لیکن سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پر یہ بہت غریب (منفرد) ہیں۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، حدثنا أيوب، حدثنا حُميد بن هِلال، عن أبي بُردة، قال: أخرجتْ إلينا عائشةُ كِساءً مُلبَّدًا وإزارًا غَلِيظًا، فقالت: قُبِضَ رسولُ الله ﷺ في هذَين (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4206 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4206 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر اور ایک موٹا تہبند نکال کر دکھایا اور فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کی روح مبارک انہی دو کپڑوں میں قبض کی گئی تھی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسين بن الحسن السُّكّري، حدثنا سليمان بن داود المِنْقَري، حدثنا عبد الله بن إدريس، قال: سمعت أبي يُحدِّث عن عَدِيِّ بن ثابت، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، قال: كان للنبيِّ ﷺ فَرَسٌ يُدعَى المُرتَجِزَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4207 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4207 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک گھوڑا تھا جسے ”المرتجز“ (خوش آواز) کہا جاتا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔