أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد بن عمرو الأحمسي بالكوفة، حدثنا الحسين بن حُمَيد، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكين، حدثنا المسعودي، عن عثمان بن مسلم بن هُرمز، عن نافع بن جُبَير بن مُطعِم عن علي قال: لم يكن رسولُ الله ﷺ بالطَّويل ولا بالقَصير، شَثْنُ الكفَّين والقدمَين، ضَخْمُ الرأس واللحية، مُشرَبٌ حُمْرةً، ضخمُ الكَرادِيس، طويلُ المَسْرُبَةِ، إذا مشى تكفَّأَ تكفُّؤًا كأنما يمشي يَنحطُّ من صَبَبٍ، لم أرَ قبلَه ولا بعدَه مثلَه ﷺ (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4194 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الألفاظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4194 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نہ بہت زیادہ طویل قامت تھے اور نہ پست قد، آپ کی ہتھیلیاں اور قدم پُر گوشت اور مضبوط تھے، سر مبارک بڑا اور داڑھی گھنی تھی، رنگت سرخی مائل سفید تھی، ہڈیوں کے جوڑ بڑے تھے، سینے سے ناف تک بالوں کی لمبی لکیر تھی، جب آپ چلتے تو (قوت کی وجہ سے) تھوڑا آگے جھک کر چلتے تھے گویا کہ آپ کسی ڈھلوان سے اتر رہے ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا عَبْدان، أخبرني أبي، عن شُعْبة، عن سِماك بن حَرْب، عن جابر بن سَمُرة، قال: كان رسول الله ﷺ أَشْكَلَ العَينَين، ضَلِيعَ الفَمِ. قلت: ما أَشْكَلُ العَينَينِ؟ قال: بادام جِشْمْ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی آنکھیں سرخی مائل («اشكل العينين») تھیں اور دہن مبارک کشادہ تھا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا «اشكل العينين» کیا ہے؟ تو (فارسی میں) جواب ملا: ”بادام چشم“ (یعنی بادامی آنکھیں جن کی سفیدی میں سرخی کی ڈوریاں ہوں)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو سعيد الأحمَسي، حدثنا الحُسين بن حُميد، حدثنا أحمد بن مَنِيع، حدثنا عبّاد بن العَوّام، حدثنا حجّاج، عن سِماك بن حَرْب، عن جابر بن سَمُرة، قال: كان رسول الله ﷺ لا يضحكُ إلَّا تَبسُّمًا، وكان في ساقِه حُمُوشةٌ، وكنتَ إِذا نَظَرْتَ إليه قُلتَ: أَكْحلُ العَينَين، وليس بأكْحَلَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4196 - حجاج لين الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4196 - حجاج لين الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (کھلکھلا کر) نہیں ہنستے تھے بلکہ آپ کا ہنسنا محض تبسم (مسکرانا) ہوتا تھا، آپ کی پنڈلیوں میں قدرے دبلا پن تھا، اور جب آپ انہیں دیکھتے تو (آنکھوں کی فطری سیاہی اور چمک کی وجہ سے) کہتے کہ آپ کی آنکھوں میں سرمہ لگا ہوا ہے حالانکہ وہ سرمہ لگی ہوئی نہیں ہوتی تھیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔