کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورۂ مریم کی تفسیر – حروفِ مقطعات (کهيعص) کے معنی کی وضاحت
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا يعقوب بن يوسف القَزْويني، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس، قولَه ﷿: ﴿كهيعص﴾، قال: كاف من كَرِيم، وها من هادٍ، ويا من حَكِيم، وعَيْن من عَلِيم، وصاد من صادق (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3405 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3405 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿كهيعص﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(اس میں) «كاف» سے مراد کریم، «ها» سے مراد ہادی، «يا» سے مراد حکیم، «عين» سے مراد علیم اور «صاد» سے مراد صادق ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنَّاد، أخبرنا شَرِيك، عن سالمٍ الأفطس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس، قولَه ﷿: ﴿كهيعص﴾، قال: كافٍ هادٍ أمينٌ عزيزٌ صادقٌ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3406 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3406 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿كهيعص﴾ کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(اس سے مراد اللہ کی صفات ہیں کہ وہ) کافی، ہادی، امین، عزیز اور صادق ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبّاس في قوله ﷿: ﴿لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ [مريم: 7]، قال: لم يُسَمَّ يحيى قبلَه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3407 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3407 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا﴾ ”ہم نے اس سے پہلے اس نام کا کوئی شخص نہیں بنایا۔“ [سورة مريم: 7] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے پہلے کسی کا نام یحییٰ نہیں رکھا گیا تھا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن حمزة المَرْوَزي، حدثنا أبو صالح هَدِيَّة بن عبد الوهاب، أخبرنا محمد بن شُجَاع، عن محمد بن زياد اليَشكُري عن ميمون بن مِهْران: أنَّ نافع بن الأزرق سأَل ابنُ عبَّاس فقال: أخبِرْني عن قول الله ﷿: ﴿وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا﴾ [مريم: 8]، ما العِتيُّ؟ قال: البُؤْس من الكِبَر، قال الشاعر: إنما يُعذَرُ الوليدُ ولا يُعْـ … ــذَرُ مَن كان في الزَّمان عِتِيًّا (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3408 - قال أحمد بن حنبل محمد بن زياد اليشكري الطحان كذاب خبيث يضع الحديث وابن شجاع من ضعفاء المراوزة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3408 - قال أحمد بن حنبل محمد بن زياد اليشكري الطحان كذاب خبيث يضع الحديث وابن شجاع من ضعفاء المراوزة
حافظ طلحہ بابر
میمون بن مہران سے روایت ہے کہ نافع بن ازرق نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا﴾ ”اور یقیناً میں بڑھاپے کی انتہائی حالت کو پہنچ چکا ہوں۔“ [سورة مريم: 8] کے بارے میں بتائیے، «العتي» («عتيّا») کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد بڑھاپے کی انتہائی کمزوری اور لاغر پن ہے۔“ (اور بطور دلیل) عرب شاعر کا قول پیش کیا: «إِنَّمَا يُعْذَرُ الْوَلِيدُ وَلَا يُعْذَرُ ٭ ٭ ٭ مَنْ كَانَ فِي الزَّمَانِ عِتِيًّا» ”یقیناً بچے کو تو معذور سمجھا جاتا ہے لیکن اس شخص کو معذور نہیں سمجھا جاتا جو زمانے میں انتہائی بوڑھا ہو چکا ہو۔“
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا﴾ [مريم: 11]: كان يأمرُهم بالصلاة بُكْرةً وعَشِيًّا (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3409 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3409 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا﴾ ”پس اس نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ تم صبح و شام تسبیح بیان کرو۔“ [سورة مريم: 11] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ (سیدنا زکریا علیہ السلام) انہیں صبح و شام نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن أبيه، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس، قولَه ﷿: ﴿وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا﴾ [مريم: 13]، قال: التعطُّفُ بالرَّحمة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3410 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3410 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَحَنَانًا مِنْ لَدُنَّا﴾ ”اور اپنے پاس سے شفقت۔“ [سورة مريم: 13] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد رحمت کے ساتھ شفقت کرنا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔