حدیث نمبر: 3449
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا﴾ [مريم: 11]: كان يأمرُهم بالصلاة بُكْرةً وعَشِيًّا (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3409 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَأَوْحَى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا﴾ ”پس اس نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ تم صبح و شام تسبیح بیان کرو۔“ [سورة مريم: 11] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”وہ (سیدنا زکریا علیہ السلام) انہیں صبح و شام نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3449
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات إلّا أنَّ رواية جرير» [ترقيم الرساله 3449] [ترقيم الشركة 3429] [ترقيم العلميه 3409]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) رجاله ثقات إلّا أنَّ رواية جرير - وهو ابن عبد الحميد - عن عطاء بن السائب كانت بعد اختلاط الأخير. إسحاق: هو ابن راهويه.
درجۂ حدیث: (3) اس کے راوی "ثقہ" ہیں، سوائے اس کے کہ جریر (ابن عبد الحمید) کی عطاء بن سائب سے روایت ان کے "اختلاط" کے بعد کی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسحاق سے مراد "ابن راہویہ" ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3449 سے ماخوذ ہے۔