المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ مَرْيَمَ - شَرْحُ مَعْنَى حُرُوفِ ( كهيعص ) باب: سورۂ مریم کی تفسیر – حروفِ مقطعات (کهيعص) کے معنی کی وضاحت
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن علي بن حمزة المَرْوَزي، حدثنا أبو صالح هَدِيَّة بن عبد الوهاب، أخبرنا محمد بن شُجَاع، عن محمد بن زياد اليَشكُري عن ميمون بن مِهْران: أنَّ نافع بن الأزرق سأَل ابنُ عبَّاس فقال: أخبِرْني عن قول الله ﷿: ﴿وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا﴾ [مريم: 8]، ما العِتيُّ؟ قال: البُؤْس من الكِبَر، قال الشاعر: إنما يُعذَرُ الوليدُ ولا يُعْـ … ــذَرُ مَن كان في الزَّمان عِتِيًّا (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3408 - قال أحمد بن حنبل محمد بن زياد اليشكري الطحان كذاب خبيث يضع الحديث وابن شجاع من ضعفاء المراوزةمیمون بن مہران سے روایت ہے کہ نافع بن ازرق نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا﴾ ”اور یقیناً میں بڑھاپے کی انتہائی حالت کو پہنچ چکا ہوں۔“ [سورة مريم: 8] کے بارے میں بتائیے، «العتي» («عتيّا») کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد بڑھاپے کی انتہائی کمزوری اور لاغر پن ہے۔“ (اور بطور دلیل) عرب شاعر کا قول پیش کیا: «إِنَّمَا يُعْذَرُ الْوَلِيدُ وَلَا يُعْذَرُ ٭ ٭ ٭ مَنْ كَانَ فِي الزَّمَانِ عِتِيًّا» ”یقیناً بچے کو تو معذور سمجھا جاتا ہے لیکن اس شخص کو معذور نہیں سمجھا جاتا جو زمانے میں انتہائی بوڑھا ہو چکا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "ہالک" (انتہائی ضعیف) ہے۔ محمد بن زیاد الیشکری کو محدثین نے "جھوٹا" کہا ہے، اور محمد بن شجاع (نبہانی مروزی) "ضعیف" ہیں۔ ذہبی نے "تلخیص" میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔
وأخرجه ضمن خبر طويل جدًّا ابنُ الأنباري في "الوقف والابتداء" 1/ 90 (116) من طريق محمد بن علي بن الحسن بن شقيق، عن أبي صالح هدية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن الانباری نے "الوقف والابتداء" (1/ 90، نمبر 116) میں ایک طویل خبر کے ضمن میں محمد بن علی بن حسن بن شقیق کے طریق سے، ابو صالح ہدیہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔