کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حضرت یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو سردار اور پاکدامن کہلانے کی وجہ
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب حدثنا أحمد بن عبد الجبار العُطَارِدي، حدثنا يونس بن بُكَير، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني يحيى بن سعيد، عن سعيد بن المسيّب، حدثني عمرو بن العاص، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: "كُلُّ بني آدمَ يأتي يومَ القيامة وله ذَنْبٌ إلَّا ما كان من يحيى بنِ زكريَّا" قال: ثم دَلَّى رسول الله ﷺ يدَه إلى الأرض فأَخذ عُودًا صغيرًا، ثم قال: "وذلك أنَّه لم يَكُن له ما للرِّجالِ إِلَّا مِثلَ هذا العُودِ، ولذلك سَمَّاه اللهُ ﴿وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ [آل عمران: 39] " (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3411 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3411 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن آدم کی تمام اولاد اس حال میں آئے گی کہ ان کے ذمے کوئی نہ کوئی گناہ ہوگا، سوائے یحییٰ بن زکریا علیہ السلام کے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین کی طرف بڑھایا اور ایک چھوٹی سی لکڑی (ٹہنی) اٹھائی اور فرمایا: ”یہ اس لیے کہ ان کے پاس مردوں والی وہ چیز (خواہش) اس چھوٹی سی لکڑی کی مانند (نہ ہونے کے برابر) تھی، اور اسی لیے اللہ نے ان کا نام ’سید‘، ’حصور‘ (بے رغبت/پاکدامن) اور ’نبی‘ رکھا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا محمد بن علي الشَّيْباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا أبو جعفر الرازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب قال: كان رُوحُ عيسى ابنِ مريمَ من تلك الأرواح التي أُخِذَ عليها المِيثاقُ في زمن آدمَ، فأرسَلَه الله إلى مريمَ في صورة بشرٍ ﴿فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ [مريم: 17]، ﴿قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلَامٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا﴾ [مريم: 20]، فحَمَلَت (1) الذي يخاطبُها فَدَخَلَ من فيها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3412 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3412 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی روح ان روحوں میں سے تھی جن سے آدم علیہ السلام کے زمانے میں (عہدِ الست کے وقت) پختہ عہد لیا گیا تھا، پھر اللہ نے انہیں مریم علیہا السلام کی طرف ایک مکمل بشر کی صورت میں بھیجا، انہوں نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھے کسی بشر نے نہیں چھوا اور نہ ہی میں بدکار ہوں، پھر وہ (روح) جو ان سے کلام کر رہی تھی ان کے منہ کے راستے (شکم میں) داخل ہوئی (اور وہ حاملہ ہوگئیں)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبَّاس المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن البَرَاء بن عازبٍ في قوله ﷿: ﴿قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا﴾ [مريم: 24]، قال: هو الجدوَلُ، النهرُ الصَّغير (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3413 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3413 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا﴾ [مریم: 24] ”بے شک تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے“ کے متعلق روایت ہے کہ اس سے مراد ایک چھوٹا نالا یا چھوٹی نہر ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد الحَفِيد، حدثنا أحمد بن نَصْر اللَّبّاد، أخبرنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس ﴿وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا﴾ [مريم: 52]، قال: سَمِعَ صَرِيفَ القلم حين كَتَبَ في اللَّوْح (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3414 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3414 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا﴾ [مریم: 52] (اور ہم نے اسے سرگوشی کے لیے قریب کیا) کے متعلق روایت ہے کہ (سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے) اس وقت قلم کے چلنے کی آواز سنی تھی جب لوحِ محفوظ پر (تقدیر کے فیصلے) لکھے جا رہے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عمرو بن محمد، حدثنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قوله ﷿: ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا﴾ [مريم: 41]، قال: كان الأنبياءُ من بني إسرائيل إلَّا عشرةً: نوحٌ وصالحٌ وهُودٌ ولُوطٌ وشعيبٌ وإبراهيمُ وإسماعيلُ وإسحاقُ ويعقوبُ ومحمدٌ، ولم يكن من الأنبياءِ مَن له اسمانِ إلَّا إسرائيلَ وعيسى، فإسرائيلُ يعقوبُ، وعيسى المسيحُ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3415 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3415 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انبیاء کرام بنی اسرائیل میں سے ہی ہوتے تھے سوائے دس کے: نوح، صالح، ہود، لوط، شعیب، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور محمد (علیہم السلام)، اور انبیاء میں سے صرف دو کے دو دو نام تھے: اسرائیل (جن کا دوسرا نام یعقوب ہے) اور عیسیٰ (جن کا دوسرا نام مسیح ہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔