کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ سے جنت الفردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے اعلیٰ حصہ ہے
أخبرني أبو أحمد محمد بن محمد بن إسحاق الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طَلْحة، قولَ الله ﷿: ﴿كَانَتْ (2) لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا﴾ [الكهف: 107]، قال عمرو: أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن جعفر بن الزُّبير، عن القاسم، عن أبي أُمامة قال: قال رسول الله ﷺ: "سَلُوا اللهَ الفِردَوسَ، فإنها سُرَّةُ الجنَّة" (3).
هذا حديث لم نَكتُبه إلَّا بهذا الإسناد، ولم نَجِدْ بُدًّا من إخراجه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3402 - جعفر هالك
هذا حديث لم نَكتُبه إلَّا بهذا الإسناد، ولم نَجِدْ بُدًّا من إخراجه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3402 - جعفر هالك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا﴾ ”بے شک ان کی مہمانی کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے۔“ [سورة الكهف: 107] کے متعلق روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے فردوس کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ جنت کا مرکز (اور اعلیٰ ترین حصہ) ہے۔“
ہم نے اس حدیث کو صرف اسی سند سے لکھا ہے اور اسے بیان کیے بغیر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا!
ہم نے اس حدیث کو صرف اسی سند سے لکھا ہے اور اسے بیان کیے بغیر ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا!
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا النَّضْر بن شُمَيل، حدثني أبو قُرَّة الأَسَدي قال: سمعت سعيدَ بن المسيّب يحدِّث عن عمر بن الخطَّاب قال: قال رسول الله ﷺ: "إنَّه قد أُوحِيَ إليَّ أنه (1) ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ [الكهف: 110] كان له نُورًا من أَبيَنَ إلى مكة حَشْوُهُ (2) الملائكةُ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3403 - أبو قرة فيه جهالة ولم يضعف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3403 - أبو قرة فيه جهالة ولم يضعف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ (جو کوئی اس آیت پر عمل کرے گا) ﴿فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ ”پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔“ [سورة الكهف: 110] تو اس کے لیے ”ابین“ (یمن کا ایک علاقہ) سے لے کر مکہ تک ایسا نور ہوگا جو فرشتوں سے بھرا ہوا ہوگا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، أخبرنا يزيد بن هارون، وتلا ﴿فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾، فقال: أخبرنا ابن أبي ذِئْب، عن بُكَير بن عبد الله بن الأَشجِّ، عن الوليد بن سَرْح (4)، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، الرجلُ يجاهدُ في سبيل الله وهو يَبتَغي مِن عَرَضِ الدنيا! فقال رسول الله ﷺ: "لا أَجْرَ له"، فأعظَمَ الناسُ ذلك، فعاد الرجلُ، فقال: "لا أَجْرَ له" (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [19 - ومن تفسير سورة مريم] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3404 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. [19 - ومن تفسير سورة مريم] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3404 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (راوی نے) یہ آیت تلاوت کی: ﴿فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾ ”پس اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔“ [سورة الكهف: 110] اور پھر بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کوئی شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے لیکن وہ (نیت میں) دنیا کا مال و متاع (مال غنیمت) بھی چاہتا ہو (تو اس کا کیا حکم ہے)؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔“ لوگوں پر یہ بات بہت بھاری گزری، تو اس شخص نے دوبارہ وہی سوال کیا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اس کے لیے کوئی اجر نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔