کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: تین قسم کے لوگ اللہ سے دعا کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی
حدثني علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا أبو المثنَّى معاذ بن المثنى بن معاذ بن معاذ العَنبَري، حدثنا أَبي، حدثنا أَبي، حدثنا شعبة، عن فراس، عن الشَّعْبي، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى، عن النبي ﷺ قال: "ثلاثةٌ يَدعُون الله فلا يُستجابُ لهم: رجلٌ كانت تحته امرأةٌ سيئةُ الخُلُق فلم يُطلِّقها، ورجلٌ كان له على رجل مالٌ فلم يُشهِدْ عليه، ورجلٌ آتى سَفيهًا ماله وقد قال الله ﷿: ﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ﴾ [النساء: 5] (1) " (2). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه لتوقيف أصحاب شُعْبة هذا الحديثَ على أبي موسى، وإنما أَجمعوا على سَنَدِ حديث شعبة بهذا الإسناد: "ثلاثةٌ يُؤتَونَ أَجرَهم مرَّتين"، وقد اتفقا جميعًا على إخراجه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3181 - على شرط البخاري ومسلم ولم يخرجاه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جو اللہ سے دعا کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں کی جاتی: ایک وہ شخص جس کے نکاح میں بد اخلاق عورت تھی مگر اس نے اسے طلاق نہیں دی، دوسرا وہ شخص جس نے کسی کو قرض دیا مگر اس پر گواہ نہیں بنایا، اور تیسرا وہ شخص جس نے اپنا مال کسی نادان (بے وقوف) کے سپرد کر دیا حالانکہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ﴾ ”اور اپنے مال نادانوں کے حوالے نہ کرو“ [سورة النساء: 5]۔“
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ شعبہ کے شاگردوں نے اس حدیث کو ابو موسیٰ اشعری پر موقوف قرار دیا ہے، جبکہ وہ اس سند کے ساتھ شعبہ کی اس حدیث پر متفق ہیں کہ ”تین لوگوں کو دوہرا اجر دیا جائے گا“ اور اس دوسری حدیث کی تخریج پر شیخین کا اتفاق ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3220
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا على أبي موسى
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا على أبي موسى، فقد اختلُف فيه على شعبة، وأصحابه عَمَدُ الرواية رَوَوْه عنه موقوفًا ومنهم معاذ بن معاذ العَنبَري، فقد رواه عنه ابنه عبيد الله عند ابن المنذر في "الأوسط" (8380) فوقفه مخالفًا أخاه المثنى في رفعه، وعبيدُ الله أحفظ وأتقن من أخيه.» [ترقيم الرساله 3220] [ترقيم الشركة 3200] [ترقيم العلميه 3181]
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مقسَم، عن ابن عبَّاس: ﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ﴾ فلا يحتاجُ إلى مالِ اليتيم ﴿وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [النساء: 6] يأكلُ من ماله مثل أن يَقُوتَ حتى لا يحتاجَ إلى مال اليتيم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3182 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ﴾ ”اور جو مالدار ہو اسے چاہیے کہ وہ (یتیم کے مال سے) بچ کر رہے“ کے بارے میں روایت ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے یتیم کے مال کی ضرورت نہیں، جبکہ ﴿وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”اور جو حاجت مند ہو وہ دستور کے مطابق کھا لے“ [سورة النساء: 6] کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مال میں سے اپنی خوراک کے بقدر اس طرح کھائے کہ اسے یتیم کے مال کی حاجت ہی نہ رہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3221
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة: وهو موسى بن مسعود النَّهدي، وقد توبع. سفيان: هو الثوري، والحكم هو ابن عتيبة، ومقسم: هو ابن بُجْرة مولى ابن عبَّاس.» [ترقيم الرساله 3221] [ترقيم الشركة 3201] [ترقيم العلميه 3182]
أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن محمود، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن عِكْرمة عن ابن عبّاس في قوله: ﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ [النساء: 8]، قال: يُرضَخُ لهم، فإن كان في المال تقصيرٌ اعتُذِرَ إليهم (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3183 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ ”اور جب تقسیمِ (وراثت) کے وقت قرابت دار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں تو انہیں بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے بھلی بات کہو“ [سورة النساء: 8] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ان لوگوں کو کچھ نہ کچھ (بطور عطیہ) دے دیا جائے، اور اگر مال میں تنگی ہو تو ان سے اچھے انداز میں معذرت کر لی جائے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عمرو بن أبي قيس, أبو إسحاق الشيباني: هو سليمان بن أبي سليمان الكوفي. وأخرجه أبو داود في الناسخ والمنسوخ كما في "تهذيب الكمال" 15/ 209 عن عبد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله الدشتكي، عن أبيه، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3222] [ترقيم الشركة 3202] [ترقيم العلميه 3183]
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: لما أنزل الله: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الأنعام: 152]، و ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ [النساء: 10]، قال: انطَلَق من كان عنده يتيمٌ فعَزَلَ طعامَه من طعامه وشرابَه من شرابه، فجعل يَفضُلُ الشيءُ من طعامه وشرابه فيُحبَس حتى يأكلَه أو يَفْسُدَ، فاشتدَّ ذلك عليهم، فذكروا ذلك للنبيِّ ﷺ، فأنزل الله: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [البقرة:220]، فخَلَطوا طعامَهم بطعامِهم، وشرابَهم بشرابِهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ ”اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو“ [سورة الأنعام: 152] اور ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ ”یقیناً وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے“ [سورة النساء: 10]، تو جس کے پاس بھی کوئی یتیم ہوتا اس نے اپنا کھانا پینا اس کے کھانے پینے سے الگ کر لیا، یہاں تک کہ اگر اس کے کھانے پینے میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے محفوظ کر لیا جاتا یہاں تک کہ یا تو وہ یتیم اسے کھا لیتا یا وہ خراب ہو جاتا، یہ صورتحال ان پر بہت گراں گزری تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ ”اور وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیجئے: ان کی (حالات کی) اصلاح بہتر ہے، اور اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں“ [سورة البقرة: 220]، چنانچہ (اس کے بعد) صحابہ نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3223
درجۂ حدیث محدثین: خبر حسن
تخریج حدیث «خبر حسن، وقد سلف الكلام عليه برقم (2530)، وسيأتي مكررًا برقم (3278).» [ترقيم الرساله 3223] [ترقيم الشركة 3203]
أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن محمود ابن حَرْب المقرئ، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن سعد، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله قال: كان رسول الله ﷺ يَعودُني وأنا مريض في بني سَلِمة، فقلت: يا رسول الله، كيف أَقسِمُ مالي بين ولدي؟ فلم يردَّ عليَّ شيئًا، فنزلت ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ﴾ [النساء: 11] (2). قد اتفق الشيخان على إخراج حديث شُعبة عن محمد بن المنكَدِر في هذا الباب بألفاظٍ غيرِ هذه، وهذا إسناد صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3185 - قد أخرجا أصله
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بنو سلمہ میں میری عیادت کے لیے تشریف لائے جب میں بیمار تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنا مال اپنی اولاد میں کس طرح تقسیم کروں؟ آپ ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ﴾ ”اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت (حکم) فرماتا ہے“ [سورة النساء: 11]۔
شیخین اس باب میں شعبہ کی روایت محمد بن منکدر سے انہی الفاظ کے علاوہ (دوسرے الفاظ کے ساتھ) روایت کرنے پر متفق ہیں، اور یہ سند صحیح ہے لیکن انہوں نے (ان الفاظ کے ساتھ) اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3224
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عمرو بن أبي قيس، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 3224] [ترقيم الشركة 3204] [ترقيم العلميه 3185]
هكذا أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا الهيثم ابن خالد، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا ابن عُيينة، عن عمرو بن دينار قال: سمعت محمدَ ابن طلحة بن يزيد بن رُكَانة يحدِّث عن عمر بن الخطاب قال: لَأن أكونَ سألتُ رسول الله ﷺ عن ثلاث، أحبُّ إلي من حُمْر النَّعَم: مَن الخليفةُ بعده؟ وعن قومٍ قالوا: نُقِرُّ بالزكاة في أموالنا ولا نؤدِّيها إليك، أيَحِلُّ قتالُهم؟ وعن الكَلَالة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3186 - بل ما خرجا لمحمد شيئا ولا أدرك عمر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کاش کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھ لیا ہوتا، تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوتا: (ایک یہ کہ) آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ (دوسرا) ان لوگوں کے بارے میں جو یہ کہیں کہ ہم اپنے مالوں میں زکوٰۃ کا تو اقرار کرتے ہیں مگر اسے آپ کی طرف ادا نہیں کریں گے، تو کیا ان سے لڑنا حلال ہے؟ اور (تیسرا) کلالہ کے بارے میں“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3225
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات إلّا أنه منقطع
تخریج حدیث «رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، محمد بن طلحة لم يدرك عمرَ بنَ الخطاب، وبهذا أعلَّه الذهبي في "تلخيصه". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 3225] [ترقيم الشركة 3205] [ترقيم العلميه 3186]