المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
ثلاثة يدعون الله فلا يستجاب لهم باب: تین قسم کے لوگ اللہ سے دعا کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 3221
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن الحَكَم، عن مقسَم، عن ابن عبَّاس: ﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ﴾ فلا يحتاجُ إلى مالِ اليتيم ﴿وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [النساء: 6] يأكلُ من ماله مثل أن يَقُوتَ حتى لا يحتاجَ إلى مال اليتيم (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3182 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ﴾ ”اور جو مالدار ہو اسے چاہیے کہ وہ (یتیم کے مال سے) بچ کر رہے“ کے بارے میں روایت ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے یتیم کے مال کی ضرورت نہیں، جبکہ ﴿وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”اور جو حاجت مند ہو وہ دستور کے مطابق کھا لے“ [سورة النساء: 6] کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے مال میں سے اپنی خوراک کے بقدر اس طرح کھائے کہ اسے یتیم کے مال کی حاجت ہی نہ رہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أبي حذيفة: وهو موسى بن مسعود النَّهدي، وقد توبع. سفيان: هو الثوري، والحكم هو ابن عتيبة، ومقسم: هو ابن بُجْرة مولى ابن عبَّاس.
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اور یہ سند ابو حذیفہ (موسیٰ بن مسعود النہدی) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں، حکم سے مراد ’ابن عتیبہ‘ ہیں، اور مقسم سے مراد ’ابن بجرہ مولیٰ ابن عباس‘ ہیں۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 3/ 869، والنحاس في "الناسخ والمنسوخ"، ص 299 - 300 من طريقين عن سفيان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 3/ 869 میں، اور نحاس نے "الناسخ والمنسوخ" ص 299 - 300 میں سفیان سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اور یہ سند ابو حذیفہ (موسیٰ بن مسعود النہدی) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں، حکم سے مراد ’ابن عتیبہ‘ ہیں، اور مقسم سے مراد ’ابن بجرہ مولیٰ ابن عباس‘ ہیں۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 3/ 869، والنحاس في "الناسخ والمنسوخ"، ص 299 - 300 من طريقين عن سفيان، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 3/ 869 میں، اور نحاس نے "الناسخ والمنسوخ" ص 299 - 300 میں سفیان سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3221 سے ماخوذ ہے۔