حدیث نمبر: 3222
أخبرني أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن محمود، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن أبي إسحاق الشَّيباني، عن عِكْرمة عن ابن عبّاس في قوله: ﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ [النساء: 8]، قال: يُرضَخُ لهم، فإن كان في المال تقصيرٌ اعتُذِرَ إليهم (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3183 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا﴾ ”اور جب تقسیمِ (وراثت) کے وقت قرابت دار، یتیم اور مسکین حاضر ہوں تو انہیں بھی اس میں سے کچھ دے دو اور ان سے بھلی بات کہو“ [سورة النساء: 8] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ان لوگوں کو کچھ نہ کچھ (بطور عطیہ) دے دیا جائے، اور اگر مال میں تنگی ہو تو ان سے اچھے انداز میں معذرت کر لی جائے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عمرو بن أبي قيس, أبو إسحاق الشيباني: هو سليمان بن أبي سليمان الكوفي. وأخرجه أبو داود في الناسخ والمنسوخ كما في "تهذيب الكمال" 15/ 209 عن عبد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله الدشتكي، عن أبيه، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 3222] [ترقيم الشركة 3202] [ترقيم العلميه 3183]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن من أجل عمرو بن أبي قيس. أبو إسحاق الشيباني: هو سليمان بن أبي سليمان الكوفي. وأخرجه أبو داود في الناسخ والمنسوخ كما في "تهذيب الكمال" 15/ 209 عن عبد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله الدشتكي، عن أبيه، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند عمرو بن ابی قیس کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق الشیبانی سے مراد ’سلیمان بن ابی سلیمان الکوفی‘ ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد نے "الناسخ والمنسوخ" میں (جیسا کہ "تهذيب الكمال" 15/ 209 میں ہے) عبداللہ بن عبدالرحمن بن عبداللہ الدشتکی سے، انہوں نے اپنے والد سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 4/ 268 من طريق عنبسة بن سعيد، عن سليمان الشيباني، به.
حوالہ / مصدر: اس کی مثل طبری نے اپنی "تفسیر" 4/ 268 میں عنبسہ بن سعید کے طریق سے، انہوں نے سلیمان الشیبانی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3222 سے ماخوذ ہے۔