وأخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة حدثنا الهيثم بن خالد، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا ابن عُيينة قال: سمعت سليمان الأحوَل يُحدِّث عن طاووس قال: سمعتُ ابن عبَّاس قال: كنت آخر الناس عهداً بعمر، فسمعته يقول: القولُ ما قلتُ، قلت: وما قلتَ؟ قال: قلتُ: الكَلَالةُ مَن لا ولدَ له (2). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3187 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3187 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں سب سے آخری شخص تھا جس نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ”بات وہی ہے جو میں نے کہی تھی“، میں نے عرض کی: آپ نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے کہا تھا کہ کلالہ وہ شخص ہے جس کی کوئی اولاد نہ ہو“۔
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
وأخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة، حدثنا الهيثم بن خالد، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن عمرو بن مُرَّة، عن مُرَّة، عن عمر قال: ثلاثٌ لأن يكونَ النبيُّ ﷺ بينَّهم لنا، أحبُّ إليَّ من الدنيا وما فيها: الخِلافةُ، والكَلالةُ، والرِّبا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3188 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3188 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر نبی کریم ﷺ ہمارے لیے ان کی مکمل وضاحت فرما دیتے تو وہ مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ محبوب ہوتیں: (ایک) خلافت، (دوسری) کلالہ اور (تیسری) سود“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔