حدیث نمبر: 3225
هكذا أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا الهيثم ابن خالد، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا ابن عُيينة، عن عمرو بن دينار قال: سمعت محمدَ ابن طلحة بن يزيد بن رُكَانة يحدِّث عن عمر بن الخطاب قال: لَأن أكونَ سألتُ رسول الله ﷺ عن ثلاث، أحبُّ إلي من حُمْر النَّعَم: مَن الخليفةُ بعده؟ وعن قومٍ قالوا: نُقِرُّ بالزكاة في أموالنا ولا نؤدِّيها إليك، أيَحِلُّ قتالُهم؟ وعن الكَلَالة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3186 - بل ما خرجا لمحمد شيئا ولا أدرك عمر
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”کاش کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے تین چیزوں کے بارے میں پوچھ لیا ہوتا، تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہوتا: (ایک یہ کہ) آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ (دوسرا) ان لوگوں کے بارے میں جو یہ کہیں کہ ہم اپنے مالوں میں زکوٰۃ کا تو اقرار کرتے ہیں مگر اسے آپ کی طرف ادا نہیں کریں گے، تو کیا ان سے لڑنا حلال ہے؟ اور (تیسرا) کلالہ کے بارے میں“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3225
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات إلّا أنه منقطع
تخریج حدیث «رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، محمد بن طلحة لم يدرك عمرَ بنَ الخطاب، وبهذا أعلَّه الذهبي في "تلخيصه". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.» [ترقيم الرساله 3225] [ترقيم الشركة 3205] [ترقيم العلميه 3186]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، محمد بن طلحة لم يدرك عمرَ بنَ الخطاب، وبهذا أعلَّه الذهبي في "تلخيصه". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں مگر یہ منقطع ہے؛
فنی نکتہ / علّت: محمد بن طلحہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا، اور اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔ ابو نعیم سے مراد ’فضل بن دکین‘ ہیں۔
وأخرجه عبد الرزاق في "مصنفه" (19185)، وسعيد بن منصور في "سننه" (2932) عن سفيان بن عيينة بهذا الإسناد. وقرن عبد الرزاق بسفيان ابنَ جُريج.
حوالہ / مصدر: اسے عبدالرزاق نے "مصنف" (19185) میں، اور سعید بن منصور نے "سنن" (2932) میں سفیان بن عیینہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اور عبدالرزاق نے سفیان کے ساتھ ابن جریج کو بھی ملایا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3225 سے ماخوذ ہے۔