المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
ثلاثة يدعون الله فلا يستجاب لهم باب: تین قسم کے لوگ اللہ سے دعا کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن عطاء بن السائب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: لما أنزل الله: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الأنعام: 152]، و ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ [النساء: 10]، قال: انطَلَق من كان عنده يتيمٌ فعَزَلَ طعامَه من طعامه وشرابَه من شرابه، فجعل يَفضُلُ الشيءُ من طعامه وشرابه فيُحبَس حتى يأكلَه أو يَفْسُدَ، فاشتدَّ ذلك عليهم، فذكروا ذلك للنبيِّ ﷺ، فأنزل الله: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ [البقرة:220]، فخَلَطوا طعامَهم بطعامِهم، وشرابَهم بشرابِهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ ”اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو“ [سورة الأنعام: 152] اور ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا﴾ ”یقیناً وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹوں میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور وہ عنقریب بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے“ [سورة النساء: 10]، تو جس کے پاس بھی کوئی یتیم ہوتا اس نے اپنا کھانا پینا اس کے کھانے پینے سے الگ کر لیا، یہاں تک کہ اگر اس کے کھانے پینے میں سے کچھ بچ جاتا تو اسے محفوظ کر لیا جاتا یہاں تک کہ یا تو وہ یتیم اسے کھا لیتا یا وہ خراب ہو جاتا، یہ صورتحال ان پر بہت گراں گزری تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ﴾ ”اور وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، فرما دیجئے: ان کی (حالات کی) اصلاح بہتر ہے، اور اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں“ [سورة البقرة: 220]، چنانچہ (اس کے بعد) صحابہ نے اپنا کھانا پینا ان کے کھانے پینے کے ساتھ ملا لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ خبر حسن ہے، تفصیلِ روایت: اور اس پر بحث نمبر (2530) پر گزر چکی ہے، اور یہ آگے نمبر (3278) پر مکرر آئے گی۔