حدیث نمبر: 2992
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن السُّدِّي، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ في قوله: ﴿يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ﴾ [الإسراء: 71] قال: "يُدعَى أحدُهم فيُعطَى كتابَه بيمينه، ويُمَدُّ له في جسمه ستون ذراعًا، قال: ويُبيَّضُ وجهُه، ويُجعَلُ على رأسه تاجٌ من لؤلؤ يَتلَالأُ، قال: فيَنطلِقُ إلى أصحابه، فيَرَونَه من بعيد، فيقولون: اللهمَّ ائتِنا به وبارِكْ لنا في هذا، حتى يأتيَهم فيقول: أَبشِروا، إِنَّ لكلِّ رجلٍ منكم مثلَ هذا، وأمَّا الكافرُ فيُسوَّدُ وجهُه ويُمَدُّ له في جسمه ستون ذراعًا؛ على صورة آدم، فيراه أصحابُه فيقولون: نعوذُ بالله من شرِّ هذا، اللهمَّ لا تأتِنا به، قال: فيأتيهم فيقولون: اللهمَّ أخِّرُه، قال: فيقول: أَبعَدَكم اللهُ، فإنَّ لكلِّ رجلٍ منكم مثلَ هذا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2955 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ﴾ ”جس دن ہم ہر جماعت کو ان کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے“ [سورة الإسراء: 71] کے بارے میں فرمایا: ”ان میں سے کسی ایک کو بلایا جائے گا تو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اس کا جسم ساٹھ ہاتھ لمبا کر دیا جائے گا، اس کا چہرہ روشن کر دیا جائے گا اور اس کے سر پر موتیوں کا چمکتا ہوا تاج رکھا جائے گا، وہ اپنے ساتھیوں کی طرف جائے گا تو وہ اسے دور سے دیکھ کر کہیں گے: اے اللہ! اسے ہمارے پاس لے آ اور ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما، یہاں تک کہ وہ ان کے پاس آ کر کہے گا: تمہیں خوشخبری ہو، تم میں سے ہر شخص کے لیے اسی طرح کا انعام ہے، رہا کافر تو اس کا چہرہ سیاہ کر دیا جائے گا، اس کا جسم سیدنا آدم علیہ السلام کی صورت پر ساٹھ ہاتھ لمبا کر دیا جائے گا، اس کے ساتھی اسے دیکھ کر کہیں گے: ہم اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، اے اللہ! اسے ہمارے پاس نہ لانا، جب وہ ان کے پاس آئے گا تو وہ کہیں گے: اے اللہ! اسے ہم سے دور رکھ، تو وہ کہے گا: اللہ تمہیں دور کرے، تم میں سے ہر ایک کے لیے ایسا ہی انجام ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2992
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتمل للتحسين السُّدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كريمة - صدوق حسن الحديث وقد تفرد بالرواية عن أبيه
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين السُّدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كريمة - صدوق حسن الحديث وقد تفرد بالرواية عن أبيه، وأبوه تابعي، ذكره ابن حبان في "الثقات" ولم يؤثر جرحه عن أحد. وأخرجه الترمذي (3136) عن عبد الله بن عبد الرحمن - وهو الدارمي - عن عبيد الله ...» [ترقيم الرساله 2992] [ترقيم الشركة 2973] [ترقيم العلميه 2955]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده محتمل للتحسين السُّدي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كريمة - صدوق حسن الحديث وقد تفرد بالرواية عن أبيه، وأبوه تابعي، ذكره ابن حبان في "الثقات" ولم يؤثر جرحه عن أحد. وأخرجه الترمذي (3136) عن عبد الله بن عبد الرحمن - وهو الدارمي - عن عبيد الله بن موسى، بهذا الإسناد. وحسَّنه.
درجۂ حدیث: اس کی سند "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سدی (جو اسماعیل بن عبد الرحمن بن ابی کریمہ ہیں) "صدوق" اور "حسن الحدیث" ہیں، اور وہ اپنے والد سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ ان کے والد تابعی ہیں جنہیں ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے اور کسی سے ان پر جرح منقول نہیں ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (3136) نے عبد اللہ بن عبد الرحمن (جو الدارمی ہیں)، عن عبید اللہ بن موسیٰ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور اسے "حسن" کہا ہے۔
وأخرجه ابن حبان في "صحيحه" (7349) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن إسرائيل، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے اپنی "صحیح" (7349) میں عبد الرحمن بن مہدی، عن اسرائیل کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2992 سے ماخوذ ہے۔