کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کسی جگہ ٹھہرنے کے بعد گھر والوں کو الگ الگ منتشر کرنے کی ممانعت
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا عمرو بن عثمان الحمصي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن العلاء بن زَيْر، أنه سمع مسلم بن مِشْكَم أبا عُبيد الله يقول: حدثنا أبو ثَعلَبة الخُشَني، قال: كان الناسُ إذا نزلوا منزلًا تفرَّقوا في الشِّعاب والأودية، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ تفرُّقَكم في هذه الشِّعاب والأودية إنما ذلكمُ من الشيطان"، فلم يَنزِلُوا بعد ذلك منزلًا إلَّا انضمَّ بعضهم إلى بعض، حتى يقال: لو بُسِط عليهم ثوبٌ لَعَمَّهم (1) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2540 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2540 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ثعلبہ خُشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام جب کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو گھاٹیوں اور وادیوں میں متفرق ہو جاتے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں یوں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے“، اس کے بعد وہ جب بھی کہیں پڑاؤ ڈالتے تو ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑ کر بیٹھتے کہ کہا جاتا کہ اگر ان پر ایک کپڑا تان دیا جائے تو وہ ان سب کو ڈھانپ لے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل - هو ابن عُلَيّة - حدثنا الحجَّاج بن أبي عثمان، عن أبي الزُّبَير، أنَّ جابر بن عبد الله حدَّثهم قال: كان رسول الله ﷺ يتخلّف عن المَسِير، فيُزجِي الضعيفَ ويُردِفُ ويَدعُو لهم (2). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2541 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2541 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (دورانِ سفر لشکر میں) سب سے پیچھے رہا کرتے تھے تاکہ کمزوروں کو آگے بڑھائیں، انہیں اپنی سواری پر بٹھائیں اور ان کے لیے دعا فرمائیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن حاتم العَدْل بَمْرو، حدثنا محمد بن غالب بن حَرْب، حدثنا أبو همَّام محمد بن مُحبَّب (1)، حدثنا سفيان بن سعيد، عن أبي إسحاق، عن حارثة بن مُضرِّب، عن فُرات بن حيّان: [أنَّ رسول الله ﷺ أمر بقتلِه، وكان عَينًا لأبي سفيان، وحَليفًا لرجلٍ من الأنصار، فقال: إني مُسلم، فقال رسول الله ﷺ] (2): "إن منكم رجالًا نَكِلهم إلى إيمانهم، منهم فُرات بن حيّان" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2542 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2542 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں (پہلے) قتل کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ وہ ابوسفیان کے جاسوس اور ایک انصاری کے حلیف تھے، انہوں نے عرض کیا: میں مسلمان ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں ہم ان کے ایمان کے سپرد کر دیتے ہیں (یعنی ان کے ظاہری دعوے کو مان لیتے ہیں)، فرات بن حیان بھی انہیں میں سے ایک ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو الحسن علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز المكي وموسى بن الحسن بن عبّاد الغَسّاني قالا: حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا هشام الدَّستُوائي، حدثنا قَتَادة عن الحسن، عن قيس بن عُبَادٍ، قال: كان أصحابُ النبي ﷺ يكرهون الصوتَ عند القتال (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2543 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2543 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
قیس بن عباد سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ قتال کے وقت (شور مچانے اور) آواز بلند کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
أخبرَناه أبو الوليد الفقيه، حدثنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار، حدثنا عبيد الله بن عمر القَواريري، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن همّام حدثني مَطَر، عن قَتَادة، عن أبي بُرْدة، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ كان يَكْرَه الصوتَ عند القِتال (1). إسناد صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وحديث هشام الدَّستُوائي شاهدُه، وهو أَولى بالمحفوظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2544 - هذا أصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2544 - هذا أصح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قتال کے وقت آواز بلند کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہشام دستوائی کی حدیث اس کی شاہد ہے اور وہی زیادہ محفوظ ہے۔
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہشام دستوائی کی حدیث اس کی شاہد ہے اور وہی زیادہ محفوظ ہے۔
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع عن إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البراء، قال: لما لقي النبيُّ ﷺ المشركين يوم حُنين نزلَ عن بغلتِه فتَرجَّل (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1)، ولم يصحَّ أنه ﷺ ترجَّل وحارَبَ راجلًا إلَّا من هذا الوجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2545 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2545 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کا غزوہ حنین کے دن مشرکین سے مقابلہ ہوا تو آپ ﷺ اپنے خچر سے نیچے اترے اور پیدل (میدان میں) چلے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور صرف اسی طریق سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ سواری سے اترے اور پیدل قتال فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور صرف اسی طریق سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ سواری سے اترے اور پیدل قتال فرمایا۔
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا أبو عِمران الجَوْني، عن علْقمة بن عبد الله المُزَني [عن مَعقِل بن يَسار] (2) أنَّ النعمان بن مُقرِّن قال: شهدتُ رسول الله ﷺ إذا لم يقاتِل من أول النهار، أخَّرَ القتالَ حتى تزولَ الشمسُ وتهُبَّ الرياحُ (3). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2546 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2546 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (غزوات میں) حاضر رہا، آپ ﷺ کا معمول تھا کہ اگر دن کے ابتدائی حصے میں قتال شروع نہ فرماتے تو قتال کو اس وقت تک مؤخر کر دیتے جب سورج ڈھل جاتا اور ہوائیں چلنے لگتیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا علي بن عبد العزيز البَغَوي، حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا ثابت، عن أنس: أنَّ أبا طلحة كان يرمي يوم أُحُد بين يدَي رسول الله ﷺ ورسولُ الله ﷺ خَلْفَه، وكان أبو طلحة راميًا، وكان إذا رمى يرفعُ النبي ﷺ شَخْصَه ليَنظُرَ أين يقعُ سهمُه، وكان أبو طلحة يرفع صدره ويقول: هكذا بأبي أنتَ يا رسول الله، لا يُصيبُك سهمٌ، نَحْري دون نَحْرك، وكان أبو طلحة يُودُّ (1) نفسه بين يدي رسولَ الله ﷺ فيقول: يا رسول الله، أنا جَلْدٌ قويٌّ، فمُرْني بما شئتَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2547 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2547 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر تیر اندازی کر رہے تھے اور آپ ﷺ ان کے پیچھے تھے، ابو طلحہ ماہر تیر انداز تھے، جب وہ تیر چلاتے تو نبی کریم ﷺ اپنا سر مبارک اٹھا کر دیکھتے کہ ان کا تیر کہاں جا کر لگا ہے، تب ابو طلحہ اپنا سینہ تان لیتے اور عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ (سر مبارک بلند نہ کریں) کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے کے سامنے ڈھال ہے، ابو طلحہ خود کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کر دیتے اور عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! میں توانا اور مضبوط ہوں، آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔