کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: رات کے وقت سفر اختیار کرو کیونکہ رات میں زمین سمیٹ دی جاتی ہے
أخبرنا بكر بن محمد الصِّيرفي بمَرُو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا خالد بن يزيد العُمَري، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن الربيع بن أنس، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ: "عليكم بالدُّلْجة، فإنَّ الأرض تُطْوَى بالليل" (3). قد كنتُ أملَيتُ في كتاب المناسِك من هذا الكتاب حديثَ رُوَيم بن يزيد المُقرئ (4)، عن الليث، عن عُقيل عن الزُّهْري، عن أنس، وجَهِدتُ إذ ذاك أن أجِدَ له شاهدًا فلم أحد، وهذا شاهدُه إن سَلِمَ من خالد بن يزيد العُمري.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2535 - إن سلم من خالد فجيد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رات کے آخری پہر کے سفر کو لازم پکڑو، کیونکہ رات کے وقت زمین سمیٹ دی جاتی ہے (یعنی مسافت جلد طے ہو جاتی ہے)۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں نے پہلے اس کی ایک اور سند ذکر کی تھی اور اس کا شاہد تلاش کر رہا تھا، پس یہ اس کا شاہد ہے اگر خالد بن یزید العمری (راوی) سے محفوظ ہو۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2567
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل أبي جعفر الرازي - واسمه عيسى بن أبي عيسى - وقد توبع. وما وقع للحاكم - وعنه البيهقي في "السنن الكبرى" 5/ 256 - من تقييد خالد بن يزيد بالعُمري فخطأ، والصحيح أنه خالد بن يزيد العَتَكي صاحبُ اللؤلؤ، وهو صدوق حسن الحديث، ...» [ترقيم الرساله 2567] [ترقيم الشركة 2550] [ترقيم العلميه 2535]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد ابن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا حُصين بن نُمير، حدثنا سفيان بن حسين، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّبِ، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن أَدخل فرسًا بين فرسَين، ولا يأْمَنُ أن يَسبِقَ فليس بقِمارٍ، ومن أدخلَ فرسًا بين فرسَين، وقد أَمِنَ أن يَسبِقَ فهو قِمارٌ" (1). تابعه سعيد بن بَشير الدمشقي عن الزُّهْري، وأقامَ إسناده:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دو گھوڑوں کے درمیان تیسرا گھوڑا داخل کیا (مقابلہ کے لیے) اور اس بات کا اطمینان نہ ہو کہ وہ سبقت لے جائے گا (یعنی نتیجہ پہلے سے طے نہ ہو) تو یہ جوا نہیں ہے، لیکن جس نے دو گھوڑوں کے درمیان ایسا گھوڑا داخل کیا جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ (لازمی) سبقت لے جائے گا، تو یہ جوا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2568
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، سفيان بن حسين - وإن كان ثقة - ضعيف في الزُّهْري، وقد تابعه سعيد بن بشير الدمشقي كما سيأتي عند المصنف بعده، لكنه ضعيف الحديث، وخالفهما الثقات من أصحاب الزُّهْري كمعمر بن راشد وشعيب بن أبي حمزة وعُقيل بن خالد فيما ذكره أبو داود بإثر (2580)، فرووه عن ...» [ترقيم الرساله 2568] [ترقيم الشركة 2551]
أخبرَناه أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا إبراهيم بن يوسف الرازي، حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا سعيد بن بَشير، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، نحوه (2) صحيح الإسناد، فإنَّ الشيخين وإن لم يخرجا حديث سعيد بن بَشير وسفيان ابن حسين، فهما إمامان بالشام والعراق، وممّن يُجمَع حديثُهما، والذي عندي أنهما اعتمدا حديث معمر على الإرسال، فإنه أرسله عن الزُّهْري (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2536 - تابعه سعيد بن بشير عن الزهري صحيح
حافظ طلحہ بابر
اسی کی ایک اور سند سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس کے مثل فرمایا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اگرچہ شیخین نے سعید بن بشیر اور سفیان بن حسین کی احادیث روایت نہیں کیں، لیکن یہ دونوں شام اور عراق کے امام ہیں اور ان کی احادیث جمع کی جاتی ہیں۔ میرے نزدیک شیخین نے اس معاملے میں امام معمر کی مرسل روایت پر اعتماد کیا ہے (جو انہوں نے زہری سے روایت کی)۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2569
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف سعيد بن بشير
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف سعيد بن بشير، وقد تابعه سفيان بن حسين في الطريق التي قبله، لكنه يضعَّف في الزُّهْري، وخالفهما كبار أصحاب الزُّهْري كما قدَّمنا، وأخرجه أبو داود (2580) عن محمود بن خالد بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2569] [ترقيم الشركة 2552] [ترقيم العلميه 2536]
أخبرني إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجّاج بن محمد، قال: قال ابن جُرَيج: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [النساء:59]، عبد الله بن قيس بن عَدِيّ بعثه النبيُّ ﷺ في سريّة. أخبرَنيهِ يَعلَى بن مسلم، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2538 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ ”اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے صاحبانِ امر کی“ [النساء: 59] سیدنا عبداللہ بن قیس بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوا جنہیں نبی کریم ﷺ نے ایک فوجی دستے کا امیر بنا کر بھیجا تھا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2570
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ابن جُرَيج: هو عبد الملك بن عبد العزيز المكي.» [ترقيم الرساله 2570] [ترقيم الشركة 2553] [ترقيم العلميه 2538]
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالوَيهِ، حدثنا معاذ بن المثنَّى العَنبَري، حدثنا يحيى بن معين حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا سليمان ابن المغيرة، حدثنا حميد بن هلال، حدثنا بشر بن عاصم، عن عُقبة بن مالك، قال: بعث النبيُّ ﷺ سريةً فسَلّحتُ رجلًا منهم سيفًا، فلما رجعنا إلى رسول الله ﷺ لامَنا رسولُ الله ﷺ، وقال: "أعجَزْتُم إذا بعثتُ رجلًا فلم يَمْضِ لأمري، أن تَجعَلوا مكانَه مَن يَمْضِي لأمري" (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2539 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک فوجی دستہ (سریہ) روانہ فرمایا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو ایک تلوار بطور اسلحہ دی، جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ ﷺ نے ہمیں ملامت کی اور فرمایا: ”کیا تم لوگ اس بات سے عاجز تھے کہ جب میں نے ایک آدمی کو (امیر بنا کر) بھیجا اور وہ میرے حکم پر (صحیح طرح) عمل پیرا نہ ہو سکا، تو تم اس کی جگہ کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرے حکم کو بجا لاتا؟“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2571
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إن كان بشر بن عاصم - وهو الليثي - هو من أراده النسائي بالتوثيق فإنه لم ينسبه في كتابه "التمييز" كما أشار إليه ابنُ القطان في "بيان الوهم" 4/ 357، ورجح أنَّ موثَّق النسائي هو بشر بن عاصم الثقفي. قلنا: فإن كان كذلك فإنَّ بشرًا الليثي حسن الحديث.» [ترقيم الرساله 2571] [ترقيم الشركة 2554] [ترقيم العلميه 2539]