المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
نَهْيُ التَّفْرِيقِ فِي الْمَنْزِلِ إِذَا نَزَلُوا باب: کسی جگہ ٹھہرنے کے بعد گھر والوں کو الگ الگ منتشر کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2577
حدثني علي بن عيسى، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع عن إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن البراء، قال: لما لقي النبيُّ ﷺ المشركين يوم حُنين نزلَ عن بغلتِه فتَرجَّل (2). صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1)، ولم يصحَّ أنه ﷺ ترجَّل وحارَبَ راجلًا إلَّا من هذا الوجه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2545 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کا غزوہ حنین کے دن مشرکین سے مقابلہ ہوا تو آپ ﷺ اپنے خچر سے نیچے اترے اور پیدل (میدان میں) چلے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور صرف اسی طریق سے یہ ثابت ہے کہ آپ ﷺ سواری سے اترے اور پیدل قتال فرمایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (2658)، وابن حبان (4775) من طريق عثمان بن أبي شيبة، بهذا الإسناد. وأخرجه البخاري (3042) عن عبيد الله بن موسى، عن إسرائيل به. بلفظ: كان أبو سفيان ابن الحارث آخذًا بعِنان بغلتِه ﷺ، فلما غشيه المشركون نزل.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (2658)، ابن حبان (4775) اور بخاری (3042) نے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: الفاظ یہ ہیں کہ ابوسفیان بن حارث نے نبی ﷺ کے خچر کی لگام تھامی ہوئی تھی، جب مشرکین نے آپ ﷺ کو گھیر لیا تو آپ ﷺ نیچے تشریف لے آئے۔
وأخرجه البخاري (2930)، ومسلم (1776)، والنسائي (8575) و (10366) من طريق
أبي خيثمة زهير بن معاوية، ومسلم (1776) من طريق زكريا بن أبي زائدة، كلاهما عن أبي إسحاق، به. بنحو لفظ عبيد الله عن إسرائيل.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری، مسلم اور نسائی نے ابوضیثمہ اور زکریا بن ابی زائدہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن سلمة بن الأكوعَ عند مسلم (1777)، وابن حبان (6520).
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح مسلم (1777) اور ابن حبان (6520) میں موجود ہے۔
(1) بل قد أخرجاه كما قدَّمنا، وإن كان لم يرد في روايتهما لفظ الترجُّل، فإنَّ لفظ النزول كافٍ في معنى الترجُّل، فلا يُستدرك ذلك عليهما.
اہم نکتہ: بخاری و مسلم نے اسے روایت کیا ہے، اگرچہ ان میں "ترجل" (پیدل ہونا) کا لفظ نہیں بلکہ "نزول" (اترنا) کا لفظ ہے جو کہ ہم معنی ہے، لہذا ان پر اعتراض (استدراک) درست نہیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (2658)، وابن حبان (4775) من طريق عثمان بن أبي شيبة، بهذا الإسناد. وأخرجه البخاري (3042) عن عبيد الله بن موسى، عن إسرائيل به. بلفظ: كان أبو سفيان ابن الحارث آخذًا بعِنان بغلتِه ﷺ، فلما غشيه المشركون نزل.
حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (2658)، ابن حبان (4775) اور بخاری (3042) نے روایت کیا ہے۔
تفصیلِ روایت: الفاظ یہ ہیں کہ ابوسفیان بن حارث نے نبی ﷺ کے خچر کی لگام تھامی ہوئی تھی، جب مشرکین نے آپ ﷺ کو گھیر لیا تو آپ ﷺ نیچے تشریف لے آئے۔
وأخرجه البخاري (2930)، ومسلم (1776)، والنسائي (8575) و (10366) من طريق
أبي خيثمة زهير بن معاوية، ومسلم (1776) من طريق زكريا بن أبي زائدة، كلاهما عن أبي إسحاق، به. بنحو لفظ عبيد الله عن إسرائيل.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری، مسلم اور نسائی نے ابوضیثمہ اور زکریا بن ابی زائدہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن سلمة بن الأكوعَ عند مسلم (1777)، وابن حبان (6520).
متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی روایت صحیح مسلم (1777) اور ابن حبان (6520) میں موجود ہے۔
(1) بل قد أخرجاه كما قدَّمنا، وإن كان لم يرد في روايتهما لفظ الترجُّل، فإنَّ لفظ النزول كافٍ في معنى الترجُّل، فلا يُستدرك ذلك عليهما.
اہم نکتہ: بخاری و مسلم نے اسے روایت کیا ہے، اگرچہ ان میں "ترجل" (پیدل ہونا) کا لفظ نہیں بلکہ "نزول" (اترنا) کا لفظ ہے جو کہ ہم معنی ہے، لہذا ان پر اعتراض (استدراک) درست نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2577 سے ماخوذ ہے۔