المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
نَهْيُ التَّفْرِيقِ فِي الْمَنْزِلِ إِذَا نَزَلُوا باب: کسی جگہ ٹھہرنے کے بعد گھر والوں کو الگ الگ منتشر کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2572
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا عمرو بن عثمان الحمصي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن العلاء بن زَيْر، أنه سمع مسلم بن مِشْكَم أبا عُبيد الله يقول: حدثنا أبو ثَعلَبة الخُشَني، قال: كان الناسُ إذا نزلوا منزلًا تفرَّقوا في الشِّعاب والأودية، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ تفرُّقَكم في هذه الشِّعاب والأودية إنما ذلكمُ من الشيطان"، فلم يَنزِلُوا بعد ذلك منزلًا إلَّا انضمَّ بعضهم إلى بعض، حتى يقال: لو بُسِط عليهم ثوبٌ لَعَمَّهم (1) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2540 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ثعلبہ خُشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام جب کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو گھاٹیوں اور وادیوں میں متفرق ہو جاتے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں یوں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے“، اس کے بعد وہ جب بھی کہیں پڑاؤ ڈالتے تو ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح جڑ کر بیٹھتے کہ کہا جاتا کہ اگر ان پر ایک کپڑا تان دیا جائے تو وہ ان سب کو ڈھانپ لے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (2628)، والنسائي (8805) عن عمرو بن عثمان الحمصي، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 29/ (17736)، وأبو داود (2628)، وابن حبان (2690) من طرق عن الوليد ابن مسلم، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (2628)، نسائی (8805)، احمد (29/ 17736) اور ابن حبان (2690) نے ولید بن مسلم کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (2628)، والنسائي (8805) عن عمرو بن عثمان الحمصي، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 29/ (17736)، وأبو داود (2628)، وابن حبان (2690) من طرق عن الوليد ابن مسلم، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (2628)، نسائی (8805)، احمد (29/ 17736) اور ابن حبان (2690) نے ولید بن مسلم کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2572 سے ماخوذ ہے۔