المستدرك على الصحيحين
كتاب : الجهاد— جہاد کا بیان
نَهْيُ التَّفْرِيقِ فِي الْمَنْزِلِ إِذَا نَزَلُوا باب: کسی جگہ ٹھہرنے کے بعد گھر والوں کو الگ الگ منتشر کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2573
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا إسماعيل - هو ابن عُلَيّة - حدثنا الحجَّاج بن أبي عثمان، عن أبي الزُّبَير، أنَّ جابر بن عبد الله حدَّثهم قال: كان رسول الله ﷺ يتخلّف عن المَسِير، فيُزجِي الضعيفَ ويُردِفُ ويَدعُو لهم (2). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2541 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (دورانِ سفر لشکر میں) سب سے پیچھے رہا کرتے تھے تاکہ کمزوروں کو آگے بڑھائیں، انہیں اپنی سواری پر بٹھائیں اور ان کے لیے دعا فرمائیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (2639) عن الحسن بن شوكر، عن إسماعيل ابن عُلَيَّة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: ابو داؤد (2639) عن حسن بن شوکر عن اسماعیل بن علیہ۔
قوله: "فيُزجي الضعيفَ" أي: يسوقه ليُلحِقه بالرّفاق.
نوٹ / توضیح: "یزجی الضعیف" کا مطلب ہے کمزور (سواری یا ساتھی) کو ہنکانا تاکہ وہ قافلے سے جا ملے۔
وقوله: "ويُردِف" أي: يُركِب خلْفه الضعيف من المُشاة.
نوٹ / توضیح: "یردف" کا مطلب ہے کسی پیدل چلنے والے کمزور شخص کو اپنے پیچھے (سواری پر) بٹھا لینا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (2639) عن الحسن بن شوكر، عن إسماعيل ابن عُلَيَّة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: ابو داؤد (2639) عن حسن بن شوکر عن اسماعیل بن علیہ۔
قوله: "فيُزجي الضعيفَ" أي: يسوقه ليُلحِقه بالرّفاق.
نوٹ / توضیح: "یزجی الضعیف" کا مطلب ہے کمزور (سواری یا ساتھی) کو ہنکانا تاکہ وہ قافلے سے جا ملے۔
وقوله: "ويُردِف" أي: يُركِب خلْفه الضعيف من المُشاة.
نوٹ / توضیح: "یردف" کا مطلب ہے کسی پیدل چلنے والے کمزور شخص کو اپنے پیچھے (سواری پر) بٹھا لینا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2573 سے ماخوذ ہے۔