حدیث نمبر: 2579
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا علي بن عبد العزيز البَغَوي، حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا ثابت، عن أنس: أنَّ أبا طلحة كان يرمي يوم أُحُد بين يدَي رسول الله ﷺ ورسولُ الله ﷺ خَلْفَه، وكان أبو طلحة راميًا، وكان إذا رمى يرفعُ النبي ﷺ شَخْصَه ليَنظُرَ أين يقعُ سهمُه، وكان أبو طلحة يرفع صدره ويقول: هكذا بأبي أنتَ يا رسول الله، لا يُصيبُك سهمٌ، نَحْري دون نَحْرك، وكان أبو طلحة يُودُّ (1) نفسه بين يدي رسولَ الله ﷺ فيقول: يا رسول الله، أنا جَلْدٌ قويٌّ، فمُرْني بما شئتَ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2547 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ غزوہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر تیر اندازی کر رہے تھے اور آپ ﷺ ان کے پیچھے تھے، ابو طلحہ ماہر تیر انداز تھے، جب وہ تیر چلاتے تو نبی کریم ﷺ اپنا سر مبارک اٹھا کر دیکھتے کہ ان کا تیر کہاں جا کر لگا ہے، تب ابو طلحہ اپنا سینہ تان لیتے اور عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ (سر مبارک بلند نہ کریں) کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے، میرا سینہ آپ کے سینے کے سامنے ڈھال ہے، ابو طلحہ خود کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کر دیتے اور عرض کرتے: اے اللہ کے رسول! میں توانا اور مضبوط ہوں، آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2579
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 2579] [ترقيم الشركة 2562] [ترقيم العلميه 2547]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذا النسخ الخطية، والظاهر أنه فعل مشتق من الوَتِد على لغة تَميم، لأنَّ الوَيِد عندهم يسمى الوَدّ. فكأنَّ أبا طلحة يوطّد نفسه في وقفته بين يدي رسول الله ﷺ كالوَتِد، خشية أن يتزحزحَ فيصيبَ رسولَ الله ﷺ سهامُ المشركين، وربما كان هذا اللفظ محرفًا عن يَشُور، كما جاء عند غير المصنف ممن خرَّج هذا الحديث، ويكون المعنى أنَّ أبا طلحة يسعى ويُخِفٌ نفسَه بين يدي رسول الله ﷺ ليُظهر بذلك قوته مِن شُرْتُ الدَّابة إذا أجريتها لتعرف قوّتها، أو يعرِّض نفسه للقتل، وقتلها في سبيل الله بيع لها، مِن شُرتُ الفرس: إذا عرضتَها للبيع.
نوٹ / توضیح: نسخوں میں موجود لفظ "وَدّ" لغتِ تمیم کے مطابق "وتد" (میخ/کھونٹا) سے نکلا ہے، یعنی حضرت ابوطلحہ نے نبی ﷺ کے سامنے خود کو کھونٹے کی طرح گاڑ لیا تھا تاکہ مشرکین کے تیر آپ ﷺ کو نہ لگیں۔
فنی نکتہ / علّت: بعض کے نزدیک یہ "یشور" سے تحریف شدہ ہے، جس کا مطلب اپنی جان کو اللہ کے ہاتھ بیچ دینا یا اپنی قوت کا اظہار کرنا ہے۔
(2) إسناده صحيح. ثابت: هو ابن أسلم البُناني.
درجۂ حدیث: سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ثابت سے مراد ثابت بن اسلم بنانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 21 / (14058) عن عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، به.
حوالہ / مصدر: احمد (21/ 14058) بحوالہ عفان بن مسلم۔
وأخرجه بنحوه أحمد 19 / (12024) و 20 (13139)، وابن حبان (4582) و (7181) من طريق حميد بن أبي حميد الطويل، وأحمد 21/ (13800)، والبخاري (2902) من طريق إسحاق ابن عبد الله بن أبي طلحة، والبخاري (3811) و (4064)، ومسلم (1811) من طريق عبد العزيز ابن صهيب ثلاثتهم عن أنس بن مالك.
متابعات و شواہد: اسے امام احمد، بخاری، مسلم اور ابن حبان نے حمید الطویل، اسحاق بن عبداللہ اور عبدالعزیز بن صہیب کے طرق سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (5607) من طريق حميد الطويل عن أنس.
تفصیلِ روایت: یہ آگے نمبر (5607) پر حمید الطویل کی سند سے آئے گی۔
(3) بل قد أخرجاه بنحوه كما قدمنا، فلا استدراك عليهما!
اہم نکتہ: چونکہ بخاری و مسلم نے اسے روایت کیا ہے، اس لیے ان پر اعتراض کی گنجائش نہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2579 سے ماخوذ ہے۔