کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سورۂ سبح للہ ما فی السماوات وما فی الارض کے نزول کا سبب، آخر سورت تک۔
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن محمد بن عُقبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أبو الوليد محمد بن أحمد بن بُرْد الأنطاكي، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن عبد الله بن سَلَام قال: قَعَدْنا نفرٌ من أصحاب رسول الله ﷺ فقلنا: لو نعلَمُ أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله، عمِلناهُ. فأنزل الله ﷿: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ إلى آخر السورة، فقرأها علينا رسولُ الله ﷺ هكذا (2). قال الأوزاعيُّ: وقرأها علينا يحيى بنُ أبي كثير بمكة، قال محمدُ بن كثير: وقرأها علينا الأوزاعيُّ هكذا، قال أبو الوليد: وقرأها علينا ابنُ كثير هكذا، قال أبو الحسن بن عُقبة: وقرأها علينا أبو الوليد هكذا، قال الحاكم: وقرأها علينا الشيخُ أبو الحسن الشَّيباني هكذا، وقرأها علينا الحاكمُ أبو عبد الله؛ السورةَ من أولها إلى آخرها. رواه الوليد بن مسلم عن الأوزاعي، وبيّن السماعَ من أول الإسناد إلى آخره.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے آپس میں کہا: ”کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے، تو ہم وہی عمل کرتے۔“ تب اللہ عزوجل نے یہ سورت نازل فرمائی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ ”اللہ کی تسبیح بیان کی ہے ہر اس چیز نے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور وہی نہایت غالب، بڑی حکمت والا ہے“ [سورة الصف: 1] (سورت کے آخر تک)۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اسی طرح یہ پوری سورت پڑھ کر سنائی۔ اوزاعی نے کہا: یہ سورت ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے مکہ میں پڑھ کر سنائی، محمد بن کثیر نے کہا: ہمیں اوزاعی نے اسی طرح سنائی، ابوالولید نے کہا: ہمیں ابن کثیر نے اسی طرح سنائی، ابوالحسن بن عقبہ نے کہا: ہمیں ابوالولید نے اسی طرح سنائی، امام حاکم نے کہا: ہمیں شیخ ابوالحسن شیبانی نے اسی طرح سنائی، اور امام حاکم ابو عبداللہ نے ہمیں یہ سورت شروع سے آخر تک پڑھ کر سنائی۔ اسے ولید بن مسلم نے اوزاعی سے روایت کیا ہے اور سند کے شروع سے آخر تک سماع (سماعت) کی صراحت کی ہے۔
أخبرَناه أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الأوزاعي، حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سلمة، حدثني عبد الله بن سَلَام، قال: كنا قعودًا عند النبي ﷺ، فقلنا: لو نعلم أيُّ الأعمال أحبُّ إلى الله، فذكر الحديثَ بنحوه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأكبرُ ظني أنَّ الذي حملهما على تركه روايةُ الهِقْل بن زياد بخلاف رواية الوليد بن مسلم وغيره:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وأكبرُ ظني أنَّ الذي حملهما على تركه روايةُ الهِقْل بن زياد بخلاف رواية الوليد بن مسلم وغيره:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، تو ہم نے عرض کیا: ”کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے“، پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مکمل واقعہ ذکر کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ جس چیز نے انہیں اسے چھوڑنے پر آمادہ کیا وہ ہِقْل بن زیاد کی روایت ہے جو ولید بن مسلم وغیرہ کی روایت کے خلاف ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ جس چیز نے انہیں اسے چھوڑنے پر آمادہ کیا وہ ہِقْل بن زیاد کی روایت ہے جو ولید بن مسلم وغیرہ کی روایت کے خلاف ہے۔
أخبرَناه أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا أبو صالح المِصري، حدثنا الهِقْل بن زياد، حدثني الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني هلال بن أبي ميمونة، عن عطاء بن يسار، حدثه أنَّ عبد الله بن سَلَام حدثه. أو قال الأوزاعي: حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سَلَام، قال: كنا عند رسول الله ﷺ، فقلنا: لو عَلِمْنا أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله، فذكر الحديثَ (1). وهذا لا يُعلِّل حديث الوليد بن مسلم، فإن الهِقْل بن زياد وإن كان محلُّه الإتقانُ والثَّبَتُ فإنه شكَّ في إسناده، ومن الدليل على صحة إسناد أبي سلمة أنَّ أبا إسحاق إبراهيم بن محمد الفَزَاري أحفظَ أصحابِ الأوزاعي، رواه بزيادة ألفاظٍ فيه بالإسناد الأول:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2384 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2384 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے، تو ہم نے کہا: ”کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے“، پھر راوی نے حدیث بیان کی۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ ہِقْل بن زیاد کی یہ روایت ولید بن مسلم کی حدیث میں کوئی عیب یا کمزوری پیدا نہیں کرتی، کیونکہ ہِقْل بن زیاد اگرچہ پختہ کار اور ثقہ راوی ہیں لیکن انہوں نے اس کی سند میں شک کیا ہے۔ اس کی سند کے صحیح ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اوزاعی کے شاگردوں میں سب سے زیادہ حافظے والے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد فزاری نے بھی اسے پہلی سند کے ساتھ بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى الأَنطاكي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سلمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سَلَام قال: اجتمَعْنا فتذاكَرْنا أيُّكم يأتي رسولَ الله ﷺ فيسألَه: أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله؟ ثم تفرّقْنا وهِبْنا أن يأتيَه أحدٌ، فأرسل إلينا رسولُ الله ﷺ، فَجَمَعَنا، فجعل يُومِئُ بعضُنا إلى بعض، فقرأ علينا: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ إلى آخر السورة (2). قال أبو سلمة: فقرأها علينا عبد الله بن سلَام إلى آخرها، قال يحيى بن أبي كثير: وقرأها علينا أبو سلمة من أولها إلى آخرها، قال الأوزاعي: وقرأها علينا يحيى من أولها إلى آخرها، وقال أبو إسحاق: وقرأها علينا الأوزاعي من أولها إلى آخرها. قال محبوبٌ: وقرأها علينا أبو إسحاق من أولها إلى آخرها؛ يعني سورةَ الصَّفِّ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اکٹھے ہوئے اور ہم نے تذکرہ کیا کہ تم میں سے کون رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ: ”اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے؟“ پھر ہم متفرق ہو گئے اور ہم میں سے ہر کوئی آپ ﷺ کے پاس جانے سے ڈرنے لگا (رعب کی وجہ سے)، تب رسول اللہ ﷺ نے خود ہماری طرف پیغام بھیجا اور ہمیں جمع فرمایا، ہم ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے، پھر آپ ﷺ نے ہمارے سامنے یہ سورت تلاوت فرمائی: ﴿سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِیزُ الْحَكِیمُ﴾ [سورة الصف: 1] (سورت کے آخر تک)۔ ابوسلمہ نے کہا: یہ سورت ہمیں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آخر تک پڑھ کر سنائی، یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا: ہمیں ابوسلمہ نے شروع سے آخر تک سنائی، اوزاعی نے کہا: ہمیں یحییٰ نے شروع سے آخر تک سنائی، ابو اسحاق نے کہا: ہمیں اوزاعی نے شروع سے آخر تک سنائی، اور محبوب نے کہا: ہمیں ابو اسحاق نے یہ پوری سورت یعنی ”سورة الصف“ شروع سے آخر تک پڑھ کر سنائی۔