حدیث نمبر: 2417
أخبرَناه أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا أبو صالح المِصري، حدثنا الهِقْل بن زياد، حدثني الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، حدثني هلال بن أبي ميمونة، عن عطاء بن يسار، حدثه أنَّ عبد الله بن سَلَام حدثه. أو قال الأوزاعي: حدثني يحيى بن أبي كثير، حدثني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن سَلَام، قال: كنا عند رسول الله ﷺ، فقلنا: لو عَلِمْنا أيُّ الأعمالِ أحبُّ إلى الله، فذكر الحديثَ (1). وهذا لا يُعلِّل حديث الوليد بن مسلم، فإن الهِقْل بن زياد وإن كان محلُّه الإتقانُ والثَّبَتُ فإنه شكَّ في إسناده، ومن الدليل على صحة إسناد أبي سلمة أنَّ أبا إسحاق إبراهيم بن محمد الفَزَاري أحفظَ أصحابِ الأوزاعي، رواه بزيادة ألفاظٍ فيه بالإسناد الأول:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2384 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے، تو ہم نے کہا: ”کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے“، پھر راوی نے حدیث بیان کی۔ امام حاکم فرماتے ہیں کہ ہِقْل بن زیاد کی یہ روایت ولید بن مسلم کی حدیث میں کوئی عیب یا کمزوری پیدا نہیں کرتی، کیونکہ ہِقْل بن زیاد اگرچہ پختہ کار اور ثقہ راوی ہیں لیکن انہوں نے اس کی سند میں شک کیا ہے۔ اس کی سند کے صحیح ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اوزاعی کے شاگردوں میں سب سے زیادہ حافظے والے ابو اسحاق ابراہیم بن محمد فزاری نے بھی اسے پہلی سند کے ساتھ بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2417
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل أبي صالح المصري» [ترقيم الرساله 2417] [ترقيم الشركة 2399] [ترقيم العلميه 2384]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات من أجل أبي صالح المصري - وهو عبد الله بن صالح كاتب الليث بن سعد - وقد توبع.
درجۂ حدیث: "حدیث صحیح" ہے؛ عبداللہ بن صالح (کاتبِ لیث) کی وجہ سے متابعات میں یہ سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد (23789) عن يعمر بن بشر، عن عبد الله بن المبارك، عن الأوزاعي، بهذين الإسنادين. وجعل الشك فيه من الأوزاعي.
حوالہ / مصدر: امام احمد کی روایت میں "شک" کی نسبت امام اوزاعی کی طرف کی گئی ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (23788) عن يحيى بن آدم، عن ابن المبارك، عن الأوزاعي، به، لكنه أسقط من إسناده الأول ذكر هلال بن أبي ميمونة، والصحيح ذكره كما في رواية يعمر بن بشر، وكما رواه حِبّان بن موسى عن ابن المبارك فيما قاله الدارقطني، كما في "اللطائف من دقائق المعارف" لأبي موسى المديني بإثر (138).
فنی نکتہ / علّت: امام احمد کی دوسری روایت میں ہلال بن ابی میمونہ کا نام سند سے گر گیا ہے، جبکہ درست یہ ہے کہ ان کا ذکر سند میں ہونا چاہیے۔
وكرواية يعمر بن بشر رواه سعيدُ بن رحمة عن ابنُ المبارك في كتابه "الجهاد" (1).
حوالہ / مصدر: سعید بن رحمہ نے اپنی کتاب "الجہاد" میں اسے ابن مبارک سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2417 سے ماخوذ ہے۔