حدیث نمبر: 2419
حدثني علي بن حَمْشاذَ العَدْل، أخبرنا هشام بن علي السَّدُوسي، أنَّ موسى بن إسماعيل حدَّثهم، قال: حدثنا جعفر بن سليمان، عن أبي عِمران الجَوْني، عن أبي بكر بن أبي موسى، عن أبيه، أنه قال وهو مُصافُّ العَدوِّ: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إنَّ الجنةَ تحت ظِلال السُّيوفِ". قال شابٌّ رَثُّ الهيئة: أنت سمعتَ هذا من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم، فكَسَر جَفْنَ سيفه معه، ثم قال لأصحابه: السلامُ عليكم، ثم دخل في القتال (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2388 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے دشمن کے سامنے صف بستہ حالت میں فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً جنت تلواروں کے سایوں کے نیچے ہے۔“ ایک شکستہ حال نوجوان نے پوچھا: ”کیا آپ نے خود یہ رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں“، تو اس نوجوان نے اپنی تلوار کا نیام توڑ ڈالا اور اپنے ساتھیوں سے کہا: ”تم پر سلام ہو“، اور پھر وہ دشمن سے قتال میں کود پڑا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : الجهاد / حدیث: 2419
درجۂ حدیث محدثین: إسناده جيد
تخریج حدیث «إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان: وهو الضُّبَعي. أبو عمران الجَوني: هو عبد الملك بن حبيب.» [ترقيم الرساله 2419] [ترقيم الشركة 2401] [ترقيم العلميه 2388]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده جيد من أجل جعفر بن سليمان: وهو الضُّبَعي. أبو عمران الجَوني: هو عبد الملك بن حبيب.
درجۂ حدیث: جعفر بن سلیمان الضبعی کی وجہ سے سند "جید" (بہتر) ہے۔
وأخرجه أحمد 32/ (19538) و (19680)، ومسلم (1902)، والترمذي (1659)، وابن حبان (4617) من طرق عن جعفر بن سليمان، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ روایت صحیح مسلم (1902) اور دیگر کتب میں موجود ہے۔
والمرفوع منه صحيح لغيره، فله شاهد من حديث عبد الله بن أبي أوفى سيأتي برقم (2444)، وهو في "الصحيحين".
متابعات و شواہد: اس کا مرفوع حصہ "صحیح لغیرہ" ہے؛ ابن ابی اوفی کی روایت (رقم 2444) جو صحیحین میں ہے، اس کی شاہد ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2419 سے ماخوذ ہے۔